سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ  کے اجلاس میں سینیٹر ثمینہ ازہری کی جانب سے پیش کردہ کالے جادو سے متعلق بل پر بحت کے دوران وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ کالے علم کا بل ہے، پی ٹی آئی سے بھی پوچھ لیں۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت ہوا، کمیی رکن سنیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ہم سینٹ کے نمائندے ہیں، پورے ملک کے نمائندے ہیں، آئی جی سندھ اور چیف سکریٹری کیوں نہیں آئے۔ 

چیرمین کمیٹی  نے کہا کہ ہم میٹنگ کےلئے انتظار کرتے ہیں افسران آتے نہیں ، کراچی مصطفیٰ عامر کا کیس صرف قتل کا کیس ہے، اس میں ڈرگز کو ڈال کر معاملہ لمبا کیا جا رہا یے۔

وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ بڑی فائن لائن ہے صوبوں کے معاملات میں وہاں کے لوگوں کو بلانے سے سیاسی معاملات کا تنازعہ شروع ہوجاتا ہے، اگر ہماری کمیٹی صوبوں کو نیٹی گریٹی میں بلانا شروع کر دے گی تو مسلہ خراب ہو گا۔

سنیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اس وقت وزیر مملکت ہیں وفاقی وزیر ہیں مشیر ہیں داخلہ کہ وہ معاملات دیکھ سکتے ہیں۔

اجلاس کے دوران سینیٹڑ پلوشہ خان نے شاملات کی زمین پر قبضوں کیخلاف بل پیش کیا، بل پر بحث کی گئی،  اسلام آبا کی ضلعی انتظامیہ نے بل کی مخالفت کردی۔

طلال چوہدری نے کہا کہ ایک تو چیف کمشنر کو اس میٹنگ میں ہونا چاہئے تھا، اسلام آباد لینڈ ریکارڈ کے معاملہ پر اگلے اجلاس میں بریفنگ دے دیں گے۔

اجلاس میں سینیٹر پلوشہ خان کی جانب سے انسداد دہشتگردی بل 2024میں ترمیم پر بحث کی گئی، سینیٹر پلوشہ خان  نے کہا کہ اے ایس ایف سے متعلق بل پر کوئی تحریری بریفنگ نہیں دی گئی، چئیرمین کمیٹی نے اے ایس ایف سے متعلق بریفنگ کو روک دیا۔

طلال چوہدری نے کہا کہ اگلی میٹنگ میں آپ کو تحریری بریفنگ دے دی جائے گا، بل کو آئندہ اجلاس تک موخر کردیا گیا

سینیٹر ثمینہ ازہری کی جانب سے پیش کردہ بل پر بحث کی گئی،  سینیٹر ثمینہ کے بل میں کالا جادو کرنے والوں کیخلاف قانونی کارروائی تجویز کی گئی ہے،  طلال چوہدری نے کہا کہ کالے علم کا بل ہے، پی ٹی آئی سے بھی پوچھ لیں، وزارت قانون کو بل پر کوئی ایشو نہیں، صرف ایک لفظ کو ٹھیک کرنا ہوگا۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں شاطر فراڈئیے کا تذکرہ ہوا، میٹرک فیل نوسرباز سینیٹرز اور ایم این ایز کو چونا لگاتا رہا، چئیرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے کہا کہ کوئی نوسرباز سینیٹرز کو کال کرکے ان کیساتھ فراڈ کررہا ہے، مجھے بھی کچھ کالز آئی ہیں، اور سینیٹر پلوشہ کو بھی، یہ لوگ کال کرکے  ڈراتے دھکماتے ہیں۔

چئیرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے معاملے پر آئی جی اسلام آباد سے بریفنگ طلب کرلی، آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ معزز سینیٹرز کو کوئی شخص اے ایس آئی عقیل شاہ بن کر  کال کررہا تھا، اسلام آباد پولیس نے ملزم کو گرفتارر کرلیا۔

آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ یہ ایک گینگ ہے جو ساہیوال سے آپریٹ کرتا ہے، اس نے ایم این اے ایز کو بھی کالز کیں، اس کا سالہ اس کو ڈیٹا فراہم کرتا تھا، ملزم کو ساہیوال سے گرفتار کرلیا گیا ہے، ملزم سے 2125 سمز برآمد ہوئی ہیں، اس ملزم کی کال پر سینیٹر ہدایت اللہ تھانہ آئی نائن پہنچ گیے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹی اسلام آباد اجلاس میں کی گئی

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف