امریکی فوج کے تیل بردار ٹینکرسے بحری جہاز کی ٹکر ‘دونوں جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی
اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT
لندن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11 مارچ ۔2025 )شمال مشرقی انگلینڈ کے قریب امریکی فوج کے لیے جیٹ فیول لے جانے والے ایک ٹینکر کو کنٹینر بردار بحری جہاز نے ٹکر مار دی جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی اور متعدد دھماکے ہوئے جبکہ عملے کے ارکان دونوں جہازوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے، حادثے میں 32 افراد زخمی ہوگئے ہیں.
(جاری ہے)
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ہزاروں ٹن جیٹ ایندھن لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا ٹینکر لنگر انداز تھا کہ ایک چھوٹے کنٹینر جہاز نے اسے تیز رفتاری سے ٹکر ماری جس سے اس کا کارگو ٹینک پھٹ گیا اور ایندھن سمندر میں بہنا شروع ہوگیا میری ٹائم سیکیورٹی کے 2 ذرائع نے بتایا کہ اس واقعے میں کسی بدنیتی پر مبنی سرگرمی یا دیگر عناصر کے ملوث ہونے کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے. مقامی حکام کا کہنا ہے کہ 32 افراد کو ایمبولینسوں کے ذریعے طبی امداد فراہم کی گئی لیکن دوپہر تک صرف ایک شخص ہسپتال میں زیر علاج رہا تاہم اس حادثے سے ماحولیاتی نقصان کا خطرہ ہو سکتا ہے یارکشائر وائلڈ لائف ٹرسٹ کے ڈائریکٹر آف آپریشنز مارٹن سلیٹر کا کہنا ہے کہ ایسٹ یارکشائر کا ساحل سمندری پرندوں کی محفوظ اور اہم کالونیوں کا مسکن ہے جن میں پفن اور گینٹ بھی شامل ہیں. گرین پیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کے اثرات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا جن میں ٹینکر میں لے جائے جانے والے تیل کی مقدار اور قسم، دونوں بحری جہازوں میں کتنا د ایندھن موجود ہے اور اس میں سے کتنا پانی شامل ہوا ہے جبکہ سمندر ی اور موسمی حالات بھی اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہوں گے کہ کسی بھی قسم کا رساﺅ کس طرح برتاﺅ کرتا ہے. یو ایس لاجسٹک گروپ ”کراﺅلی“ کی زیر ملکیت ”اسٹینا امیکولیٹ‘ ‘نامی ٹینکر ”جیٹ اے ون“ فیول لے جا رہا تھاکہ اسے پرتگالی مال بردار جہاز ”سولونگ“ نے ہل کے قریب لنگر انداز ہوتے ہوئے ٹکر ماردی اسٹینا ٹینکر امریکی حکومت کے اس پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد ضرورت پڑنے پر مسلح افواج کو ایندھن فراہم کرنا ہے. امریکی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ ٹینکر پیر کو امریکی بحریہ کی ملٹری سی لفٹ کمانڈ کے لیے مختصر مدت کے چارٹر پر تھا ہنگامی ٹیموں نے پیر کی صبح ایک ہیلی کاپٹر، فکسڈ ونگ ہوائی جہاز، لائف بوٹس اور آگ بجھانے کی صلاحیت رکھنے والے قریبی بحری جہاز بھیجے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بحری جہاز
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔