نجی کمپنی کی ایک غلطی نے امریکی بینک کو بھاری پڑگئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT
امریکا میں ایک تھرڈ پارٹی کمپنی کی سنجیدہ نوعیت کی غلطی نے ایک بڑے امریکی بینک کے نامعلوم تعداد میں صارفین کے سوشل سیکیورٹی نمبر اور دیگر نجی معلومات افشا کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بینک آف امیریکا نے اپنے صارفین کو مطلع کیا ہے کہ خفیہ دستاویزات ایک کھلے کنٹینر میں رہ جانے کی وجہ سے ان کے نام، اکاؤنٹ تفصیلات، پتے، رابطے کی معلومات، تاریخِ پیدائش، سوشل سیکیورٹی نمبر اور دیگر حکومتی شناختیں افشا ہوگئی ہیں۔
بینک کا کہنا ہے کہ اس خلاف ورزی کی ذمہ داری ’ڈیٹا کو تلف‘ کرنے والے تھرڈ پارٹی ادارے پر عائد ہوتی ہے۔
بینک حکام کے مطابق 30 دسمبر 2024 کو ایک بے نام فنانشل سینٹر سے دستاویزات اٹھانے اور سیکیورٹی مقاصد کی غرض سے ان کو تلف کرنے کے لیے اس کمپنی کی خدمات لی گئیں تھیں۔
جاری کیے گئے ایک بیان میں بینک کا کہنا تھا کہ کچھ دستاویزات کو فنانشل سینٹر کے باہر موجود محفوظ کنٹینرز کے باہر پایا گیا۔
بینک آف امیریکا نے تاحال اس متعلق نہیں بتایا ہے کہ ڈیٹا کی اس خلاف ورزی سے کتنے صارفین متاثر ہوئے ہیں۔ رواں برس ماہ جنوری کے مطابق بینک آف امیریکا 6 کروڑ 90 لاکھ امریکی صارفین اور چھوٹے کاروبار کو مالی سروسز مہیا کر رہا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
کراچی:ایف آئی اے امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن کلیئرنس کے دوران ایک مسافر کمیل عباس کو مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر آف لوڈ کردیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق تفصیلی جانچ کے دوران مسافر کے پاسپورٹ پر مشتبہ جعلی مہریں پائی گئیں۔ مشتبہ مہروں کی تصدیق انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (IBMS) کے ذریعے کی گئی، تاہم متعلقہ آمد و روانگی کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہ ہونے پر مہروں کے جعلی ہونے کا شبہ مزید مضبوط ہو گیا۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران مسافر نے بیان دیا کہ اس نے اپنا پاسپورٹ اپنے دوست نعیم کے حوالے کیا تھا، جو اس وقت ملائیشیا میں مقیم ہے اور مبینہ طور پر اسی شخص نے پاسپورٹ پر جعلی پاکستانی امیگریشن مہریں لگوائیں۔ مسافر نے مذکورہ شخص کے رابطہ نمبرز بھی فراہم کر دیے ہیں۔
مسافر کو پرواز سے آف لوڈ کر کے مقدمہ مزید قانونی کارروائی، جامع تحقیقات اور جعلی امیگریشن مہروں کے استعمال میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی کے لیے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سرکل (AHTC) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔