ایم ڈی اے، گریڈ پانچ کا میل ویکسینٹر 6سوگز کے بنگلے میں رہائش پذیر ؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
عرفان بیگ کے بیرون ملک لئیق احمد سے شراکت میں ریسٹورنٹ قائم کیے جانے کی اطلاعات
موجودہ ڈی جی ایم ڈی اے سعید صالح جمانی بھی عرفان بیگ کے سامنے بے بس نظر آنے لگے
ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سابقہ نام نہاد ڈائریکٹر اسٹیٹ اور اس کے علاوہ متعدد عہدوں پر فائز رہنے والے گریڈ پانچ کے میل ویکسی نیٹرمحمد عرفان بیگ کے خلاف نیب نے تحقیقات شروع کردی۔ ایم ڈی اے کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل سعید صالح جمانی بھی عرفان بیگ کے سامنے بے بس نظر آنے لگے ہیں،تاحال عرفان بیگ سے سرکاری ویگو-082 GSریکور نہ کی جا سکی۔ ذرائع کے مطابق مطابق عرفان بیگ کی معاونت فیصل جمانی کر رہے ہیںجو سعید صالح جمانی کے قریبی رشتہ دار بتائے جا رہے ہیں یہ صاحب اس وقت عرفان بیگ کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں اور عرفان بیگ کی ایم ڈی اے میں واپسی کے لئے کوشاں ہیں۔ محمد عرفان بیگ پیشے کے اعتبار سے عثمان آباد کا ایک دھوبی ہے جو 5گریڈ میں کے ایم سی میں میل ویکسی نیٹر بھرتی ہوا تھا ۔غیر قانونی طور پر ایم ڈی اے میں تبادلہ کرایا۔ دھوبی گھاٹ سے سفر شروع کرنے والا عرفان بیگ آج سندھ میں قبضہ مافیا کا سرغنہ بن کر ابھرا ہے، آج اس دھوبی گھاٹ والے کی اربوں کی پراپرٹی پاکستان اور پاکستان سے باہر پھیلی ہوئی ہیں۔2020میں جب عرفان بیگ کو ڈائریکٹر اسٹیٹ اینڈ انفورسمنٹ کا چارج سونپا گیا اس کے بعد ایم ڈی اے میں سرکاری زمینوں پر قبضے اور ایم ڈی اے میں جعلسازی کا ایک طوفان امڈ آیا کچھ عرصے کے بعد عرفان بیگ نے باقاعدہ ایک پرائیویٹ سسٹم ایم ڈی اے میں اتار دیا تاکہ عرفان بیگ اس پرائیویٹ سسٹم کی مدد سے اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکے۔ اطلاعات کے مطابق اس پرائیویٹ سسٹم نے عرفان بیگ کی مدد سے تقریباً 3ہزار ایکڑ اراضی پر قبضہ کرایا اور ان قبضوں کی مد میں اربوں روپے لوٹ لیے گئے ۔ عرفان بیگ کے خلاف متعدد شکایات درج کرائی گئی لیکن سسٹم مافیا نے محکمہ اینٹی کرپشن سے عرفان بیگ کو محفوظ رکھا۔ چونکہ سسٹم مافیا نے اینٹی کرپشن میں اپنے فرنٹ مین بیٹھا رکھے تھے ۔ ان فرنٹ مینوں کی مدد سے عرفان بیگ کو ہر قانونی کارروائی سے بچائے رکھا۔مگر
اب اطلاعات ہیںکہ قومی احتساب بیورو میں عرفان بیگ، لئیق احمداور سہیل بابو کی کرپٹ مافیاؤں کے خلاف کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :