ڈیجیٹل فنڈز کی منتقلی پر دو گھنٹے کی کولنگ پیریڈ سے متعلق وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سوشل میڈیا پر ڈیجیٹل فنڈز کی منتقلی پر دو گھنٹے کی کولنگ پیریڈ سے متعلق خبروں کے حوالے سے وضاحت کی ہے کہ تمام ڈیجیٹل فنڈز کی منتقلی حقیقی وقت (ریئل ٹائم) کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور مستفید افراد کو رقم تقریباً فوراً ہی ان کے اکاؤنٹس میں موصول ہو جاتی ہے۔ ایک اعلامیہ میں مرکزی بینک نے کہا کہ دو گھنٹے کی کولنگ پیریڈ صرف برانچ لیس بینکنگ والیٹس/اکاؤنٹس میں موصول شدہ فنڈز کے استعمال یا کیش آؤٹ پر لاگو ہوتی ہے۔ اگرچہ برانچ لیس بینکنگ والیٹس/اکاؤنٹس میں رقم فوری طور پر موصول ہو جاتی ہے، تاہم ان فنڈز کے ذریعے کیش آؤٹ، آن لائن خریداری یا موبائل ٹاپ اپ دو گھنٹے کے کولنگ پیریڈ کے بعد ہی ممکن ہے۔یہ شرط اپریل 2023 میں متعارف کرائی گئی تھی کیونکہ برانچ لیس بینکنگ اکاؤنٹس کے لیے صارف کی شناخت کی شرائط نسبتاً آسان ہیں، اور اس وجہ سے ان اکاؤنٹس کے ذریعے دھوکہ دہی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ دو گھنٹے کا کولنگ پیریڈ صارفین کو کسی بھی مشکوک یا فراڈ کی اطلاع اپنے بینک کو بروقت دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اعلامیہ میں کہآ گیا ہے کہ دو سال سے زائد عرصہ قبل جاری کی گئی یہ کولنگ پیریڈ ہدایات مؤثر ثابت ہوئی ہیں اور دھوکہ دہی سے بچاؤ کے لیے ایک مضبوط حفاظتی طریقہ کار کے طور پر کام کر رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نیب سے متعلق تمام مقدمات آئینی عدالت سنے گی،نیب قانون میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ نیب مقدمات نہیں سن سکتی،نیب کے تمام مقدمات آئینی عدالت منتقل ہو گئے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سنایا۔
مزید :