فلسطین میں جاری اسرائیلی سفاکیت پر مسلم حکمرانوں کی خاموشی قابلِ افسوس ہے، عبدالواسع
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
پشاور میں خطاب کرتے ہوئے صوبائی امیر کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن ہر سطح پر فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہیں۔ عبدالواسع نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ نومبر میں ہونے والے جماعت اسلامی پاکستان کے اجتماعِ عام کی تیاری بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ کریں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی نجکاری کا فیصلہ عوام دشمنی، غیرمنصفانہ اور ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے، حکومت عوامی خدمت کے اداروں کو سرمایہ داروں کے حوالے کر کے مہنگائی سے دوچار غریبوں پر ظلم کی مرتکب ہورہی ہے۔ صوبائی حکومت فوری طور پر سرکاری اداروں کی نجکاری کے فیصلے پر نظرثانی کرے اور تعلیم و صحت کے نظام میں بنیادی اصلاحات اور شفاف انتظام یقینی بنائے۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے صوبائی امیر عبدالواسع نے مرکز اسلامی پشاور میں تحریکِ محنت پاکستان کے اجتماعِ ارکان و نوجوانان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریکِ محنت کا مقصد ملک بھر میں دینی و تحریکی لٹریچر کو عام کر کے فکری بیداری اور دعوتِ اسلامی کا فروغ ہے،جو آج کے فکری انتشار کے دور میں نہایت اہمیت کی حامل ہے۔
انہوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ اور فلسطین میں جاری اسرائیلی سفاکیت اور بربریت پر مسلم حکمرانوں کی خاموشی قابلِ افسوس ہے، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن ہر سطح پر فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہیں۔ عبدالواسع نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ نومبر میں ہونے والے جماعت اسلامی پاکستان کے اجتماعِ عام کی تیاری بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ کریں، تاکہ یہ اجتماع عوامی بیداری، اسلامی انقلاب اور عدل و انصاف کے نظام کے قیام کی سمت کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ثابت ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی عبدالواسع نے کے ساتھ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔