وزیراعظم نے ماہ نور چیمہ کو نوجوانوں کیلئے مشعلِ راہ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
— اسکرین گریب
وزیراعظم شہباز شریف سے تعلیمی میدان میں ورلڈ ریکارڈ ہولڈر ماہ نور چیمہ نے ملاقات کی ہے۔
وزیراعظم اور پاکستانی نژاد طالبہ ماہ نور چیمہ کی ملاقات گزشتہ ہفتے لندن میں ہوئی۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ماہ نور چیمہ کو اے لیول امتحانات میں 24 مضامین میں شاندار کارکردگی پر دلی مبارکباد دی اور انہیں ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ اور نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے ماہ نور کے والدین کو بھی مبارکباد پیش کی اور طالبہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور انہیں تحائف پیش کیے۔
ماہ نور چیمہ نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور تعلیمی میدان میں مزید کامیابیوں کا عزم ظاہر کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ماہ نور چیمہ
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔