صیہونی وزیراعظم نے غزہ میں فوجی کارروائیاں تیز کرنے کا عندیہ دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حماس کو غیر مسلح کیا جائے گا، سفارتی حل ہو یا ہماری فوجی طاقت سے، حماس غیر مسلح ہوگی، امریکا کو بتا دیا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنا ہے اور ہمیں یہ کام کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے عندیہ دیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں مزید شدت اختیار کرسکتی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ٹیلی ویژن خطاب میں تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی وفد مصر کے دارالحکومت قاہرہ جائے گا، تاکہ جنگ بندی کے نفاذ سے متعلق کچھ تفصیلات طے کی جا سکیں اور اس کے لیے ایک ٹائم لائن تیار کی جا سکے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ حماس کے پاس اس معاہدے کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ حماس کو غیر مسلح کیا جائے گا، سفارتی حل ہو یا ہماری فوجی طاقت سے حماس غیر مسلح ہوگی، امریکا کو بتا دیا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنا ہے اور ہمیں یہ کام کرنا ہے۔ نیتن یاہو کے اس بیان سے امکان ظاہر ہوتا ہے کہ اگر حماس نے جنگ بندی معاہدہ قبول نہ کیا تو اسرائیلی فوجی کارروائیاں مزید تیز کر دی جائیں گی۔ واضح رہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 20 نکاتی غزہ امن منصوبہ بڑی حد تک قبول کر لیا ہے۔
البتہ حماس نے ٹرمپ منصوبے کے بعض نکات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئرکا مجوزہ کردار مسترد کر دیا۔ مصری میڈیا کے مطابق حماس اور اسرائیل کے درمیان بلواسطہ مذاکرات اتوار اور پیر کو ہوں گے، بات چیت میں ٹرمپ منصوبے کے تحت تمام قیدیوں کی رہائی سے متعلق تفصیلات طے ہوں گی۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار بھر حماس کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ حماس تیزی دکھائے، ورنہ تمام شرائط ختم ہو جائیں گی، حماس کی طرف سے نہ تاخیر برداشت کریں گے، نہ غزہ کا دوبارہ خطرہ بننا قبول کریں گے۔ واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملے اب بھی جاری ہیں، 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فوجی حملوں میں مزید 66 فلسطینی شہید اور 265 زخمی ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حماس کو غیر مسلح نیتن یاہو کہ حماس کرنا ہے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔