محکمہ وائلڈ لائف ٹیم کا لاہور میں چھاپہ، بغیر لائسنس گھر میں رکھا گیا شیر برآمد، ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
لاہور کے علاقے اقبال ٹاؤن میں محکمہ وائلڈ لائف پنجاب نے ایک شہری کے گھر پر چھاپہ مار کر بغیر لائسنس رکھے گئے شیر کو برآمد کرلیا، اور ملزم کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔
کارروائی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے بعد کی گئی، جس میں شہری اظہر محمود کو شیر کے ساتھ سیلفی لیتے دیکھا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں بنا لائسنس کلاشنکوف، شیر کا بچہ رکھنے پر ٹک ٹاکر کی گرفتاری و ضمانت پر رہائی
محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق اظہر محمود نے اپنے گھر کی چھت پر غیر قانونی طور پر پنجرے میں شیر رکھا ہوا تھا، جو مقررہ معیار کے مطابق نہیں تھا۔ وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت بغیر اجازت جنگلی جانور رکھنا اور ان کی عوامی تشہیر جرم ہے۔
حکومت پنجاب نے حال ہی میں وائلڈ لائف قوانین میں سخت ترامیم کی ہیں، جن کے تحت بغیر لائسنس شیر یا دیگر جنگلی جانور رکھنے، عوام میں ان کی نمائش کرنے یا ان کی تشہیر پر 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے وائلڈ لائف ٹیم کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہاکہ قانون کی خلاف ورزی پر کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی اور جنگلی جانوروں کے تحفظ سے متعلق قوانین پر سختی سے عملدرآمد جاری رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں شیرنی اور اسکا بچہ ہلاک کرنے کے جرم میں پانچ شکاری پانچ سال کے لیےقید
انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر وائلڈ لائف قوانین کے سختی سے نفاذ کو یقینی بنایا جارہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بغیرلائسنس چھاپہ سینیئر وزیر شیر برآمد لاہور محکمہ وائلڈ لائف مریم اورنگزیب وائلڈ لائف قوانین وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بغیرلائسنس چھاپہ لاہور محکمہ وائلڈ لائف مریم اورنگزیب وائلڈ لائف قوانین وی نیوز محکمہ وائلڈ لائف
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔