سینیٹ قائمہ کمیٹی مواصلات میں سڑک پر کام کے باوجود ٹول پلازہ بنانے اور ٹول ٹیکس وصولی کا انکشاف، تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
اسلام آباد (آئی این پی )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات میں سڑک پر کام جاری ہونے کے باوجود ٹول پلازہ بنانے اور ٹول ٹیکس وصولی کا انکشاف ہوا ہے ۔ سینیٹر پرویز رشید کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا، کمیٹی نے ٹول ٹیکس کی وصولی پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے 15 روز میں رپورٹ طلب کرلی۔
اجلاس میں سینیٹر پونجو مل بھیل کے توجہ دلانے پر عمر کوٹ کی سٹرک کی تعمیر مکمل نہ ہونے کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا، اجلاس میں سڑک پر کام جاری ہونے کے باوجود ٹول پلازہ بنانے اور ٹول ٹیکس وصولی کا انکشاف ہوا، جس پر قائمہ کمیٹی نے ٹول ٹیکس کی وصولی پر این ایچ اے کو تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے 15 روز میں رپورٹ طلب کرلی۔اجلاس میں سینیٹر پونجو مل بھیل نے کہا کہ 17 کلو میٹر کی سڑک 4 سال میں مکمل نہیں ہوسکی، اس سڑک کو 6 ماہ میں مکمل ہو جانا چاہیے تھا، اس منصوبے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے، یہ روڈ تھر کول کی ٹریفک کے لیے بنایا جارہا تھا۔
شراب اور اسلحہ برآمدگی کیس: علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار
انہوں نے کہا کہ جب اسٹے آرڈر آگیا تو حکومت نے تھر کول کے لیے دوسرے راستے بنالیے، یہ سڑک کرپشن کا گڑھ بن چکی، ایک ذیلی کمیٹی بنائی جائے، این ایچ اے نے وہی پرانی پلیاں رکھ کر سڑک بنالی، اگر سڑک کی کشادگی ہورہی ہو تو پرانی پلیاں کیسے استعمال ہوں گی؟۔این ایچ اے حکام نے کمیٹی کو یقینی دہانی کرائی کہ جہاں کرپشن ہوئی ہے، وہاں ایکشن لیں گے، سیکریٹری مواصلات نے کہا کہ این ایچ اے کوئی بھی روڈ خود سے نہیں شروع کرتی، صوبائی حکومت کی منظوری کے بعد معاملہ وفاقی کابینہ کو بھجوایا جاتا ہے۔اجلاس میں چیئرمین این ایچ اے نے بتایا کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام ( پی ایس ڈی پی) میں ایم 6 ہے، لیکن یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ہے، این ایچ اے کی خواہش ہے کہ ایم 6 کے لیے دونوں تجاویز رکھی جائیں، وازرت مواصلات اور این ایچ اے بجٹ تجاویز تیار کررہی ہیں، ابھی کراچی کوئٹہ، چمن روڈ کا ٹینڈر ہوا ہے، جاری منصوبوں کے لیے بجٹ جاری کیا گیا ہے۔
جعفر ایکسپریس حملہ؛ وزیراعظم، آرمی چیف آج کوئٹہ کا دورہ کریں گے
انہوں نے کہا کہ گزشتہ بجٹ کی نئی اسکیمز کو شروع نہیں کیا گیا، این ایچ اے بجٹ کی کمی کے باعث کچھ اسکیمز ڈراپ کرنا چاہتی ہے، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ کے کچھ علاقوں میں سیکیورٹی خدشات ہیں۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ پنجاب حکومت نے رمضان میں لوگوں کو رقم دینے کی اسکیم شروع کی، پنجاب حکومت یہ منصوبہ پاکستان پوسٹ سے کروانا چاہتی تھی، پاکستان پوسٹ کو اس اسکیم سے اچھا خاصا ریونیو آجانا تھا، پاکستان پوسٹ یہ منصوبہ شروع ہی نہیں کرسکا، جسے واپس لے لیا گیا۔
پاکستان پوسٹ کے حکام نے بتایا کہ 30 سے 35 لاکھ پے آرڈرز ہم نے دینے تھے، ہمیں فراہم کیے گئے بیشتر ایڈریس درست نہیں تھے، پنجاب حکومت سے لوگوں کے ایڈریس درست کرنے کی درخواست کی تھی۔پے آرڈرز کے ایڈریس بھی درست نہیں تھے، بار کوڈ بھی درست نہیں تھے، اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کیں اور عملے نے 3 دن بارش میں ڈیوٹی کی، 3 دن میں 1 لاکھ 60 ہزار لفافے مستحقین تک پہنچائے، تیسرے دن بغیر وجہ بتائے معاہدہ منسوخ کر دیا گیا، ہمیں اچانک بتایا گیا کہ آرڈرز مارکیٹ سے لیتے ہوئے 3 دن لگے۔
جمعرات اور جمعہ چھٹی کا اعلان،نوٹیفکیشن جاری
سیکریٹری مواصلات نے بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ نے آئی ٹی کمپنی کو کام آئوٹ سورس کیا ہوا ہے، پاکستان پوسٹ سے کہا ہے کہ آئی ٹی فرم کی آٹ سورسنگ ختم کریں، پنجاب حکومت کے رمضان پیکیج کی تقسیم میں ناکامی پر اس آئی ٹی کمپنی کا بھی حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کو تقسیم نہ کرکے پاکستان پوسٹ نے 87 کروڑ ضائع کر دئییئ، پاکستان پوسٹ کی لیڈرشپ میں پختہ ارادے کا فقدان ہے۔قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں پنجاب حکومت کے حکام کو طلب کرلیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،