ہندو اور مسلمان کے درمیان نفرت سے ملک میں حالات خراب ہونگے، محبوبہ مفتی
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
محبوبہ مفتی نے پاکستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی اسی طرح کا ماحول پیدا کیا گیا تھا، جسکی وجہ سے آج تک وہ ملک سنبھل نہیں پایا۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ ہندو اور مسلمان کے درمیان نفرت سے ملک کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے اترپردیش کے وزیراعلٰی یوگی آدتیہ ناتھ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک کا ماحول خراب کر دیا ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارت میں ہندو اور مسلمان مل کر رہ رہے تھے، لیکن لوگوں کے ذہنوں میں نفرت کا زہر گھول کر انہیں ایک دوسرے کا دشمن بتایا جارہا ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ نفرتی ماحول سے ملک کے حالات خراب ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ وارانہ ماحول بگاڑنے کی کوششوں سے ملک میں جاری ترقی کی رفتار سست ہوگی اور ملک کو کافی نقصان ہوگا۔ انہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیا۔
محبوبہ مفتی نے پاکستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی اسی طرح کا ماحول پیدا کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے آج تک وہ ملک سنبھل نہیں پایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال ہمارے ملک میں بھی جاری رہی تو آنے والے وقت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ محبوبہ مفتی نے آج جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع کا دورہ کیا اور اس دورہ کے دوران انہوں نے ملک میں جاری فرقہ وارانہ انتشار پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی نے انہوں نے ملک میں کہا کہ سے ملک نے کہا
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔