کالر کی جانب سے ٹریفک چالان سے بچنے کا وظیفہ مانگنے کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 14th, March 2025 GMT
کراچی(شوبز ڈیسک)اداکارہ و ٹی وی میزبان جویریہ سعود کے رمضان پروگرام میں کالر کی جانب سے کال کرکے ٹریفک چالان سے بچنے کا وظیفہ مانگنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔
رمضان المبارک شروع ہوتے ہی تمام ٹیلی وژن چینلز کی جانب سے خصوصی نشریات کے پروگرامات نشر کیے جا رہے ہیں اور ایسے پروگرامات میں ہونے والی باتوں اور بحث کی ویڈیوز بھی وائرل ہو رہی ہیں، جس پر صارفین اظہار برہمی بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
چند دن قبل جوریہ سعود کے ایکسپریس ٹی وی پر نشر ہونے والے رمضان شو میں صوبائی دارالحکومت کراچی کے ایک کالر نے فون کرکے مولوی صاحب سے ٹریفک چالان سے بچنے کا وظیفہ مانگا، جس کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔
کراچی سے کال کرنے والے شخص نے بتایا کہ وہ ملیر کے علاقے میں رہتے ہیں اور آئے دن ٹریفک پولیس والے ان کا چالان کر دیتے ہیں۔
ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے پاس گاڑی کے تمام کاغذات ہوتے ہیں جب کہ ان کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی ہوتا ہے لیکن اس باوجود ٹریفک پولیس والے کوئی نہ کوئی خرابی نکال کر ان کا چالان کر دیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ آئے روز ٹریفک پولیس کی جانب سے چالان کاٹنے سے تنگ آ چکے ہیں، اس لیے انہیں کوئی وظیفہ بتایا جائے۔
کالر کی بات پر پروگرام میں موجود مولوی صاحب نے ٹریفک پولیس اہلکاروں اور اعلیٰ افسران کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ موٹر سائیکل سوار افراد کا خیال رکھا کریں۔
مولوی صاحب نے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ ظلم موٹر سائیکل والوں کے ساتھ ہوتا ہے، ایک تو پیٹرول مہنگا، اوپر سے ٹریفک پولیس والے ان کے چالان کاٹتے رہتے ہیں۔
مولوی صاحب نے پولیس اہلکاروں کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر موٹر سائیکل سوار دیہاڑی پر مزدوری کرنے جاتے ہیں، اس لیے ان کا خیال کیا کریں۔
ساتھ ہی مولانا صاحب نے ٹریفک چالان سے بچنے کا وظیفہ بھی بتایا اور موٹر سائیکل والوں کو ہدایت کی کہ وہ جیسے ہی ٹریفک پولیس والوں کو دیکھیں وظیفہ پڑھنا شروع کریں، ان کا چالان نہیں ہوگا۔
کالر کی جانب سے ٹریفک چالان سے بچنے کا وظیفہ مانگنے کی ویڈیو وائرل ہوگئ، جس پر صارفین نے دلچسپ تبصرے بھی کیے اور زیادہ تر صارفین نے دعویٰ کیا کہ پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے اس طرح کی جعلی کالز کروائی جاتی ہیں۔
View this post on InstagramA post shared by Express TV (@entexpresstv)
مزیدپڑھیں:ٹی وی کی وہ اداکارائیں جو اپنا مذہب بھول کر ہولی کے رنگوں میں بھیگ گئیں
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کی ویڈیو وائرل ٹریفک پولیس موٹر سائیکل مولوی صاحب کی جانب سے سے ٹریفک کالر کی
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ