UrduPoint:
2026-07-24@13:04:50 GMT

گوگل والٹ کیا ہے، پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہو گا؟

اشاعت کی تاریخ: 14th, March 2025 GMT

گوگل والٹ کیا ہے، پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہو گا؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 مارچ 2025ء) گوگل والٹ ایک ایپ کی صورت میں دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں ڈیجیٹل پےمنٹس کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ یہ والٹ اینڈروئڈ ڈیوائسز استعمال کرنے والے صارفین کے لیے پےمنٹ کارڈز، لائلٹی کارڈز اور بورڈنگ پاسز جیسی ضروری تفصیلات اور معلومات تک رسائی کا ایک محفوظ، آسان اور مددگار طریقہ ہے۔

سافٹ ویئر انجینئر محمد بن متین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ گوگل والٹ ایک عام بٹوے کی ڈیجیٹل شکل ہے، جس میں صارف کو اپنے کارڈز اور نقدی ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ ان کے مطابق گوگل والٹ جو پہلے 'گوگل پے‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، اینڈروئڈ آلات پر ادائیگیوں کا ایک ڈیجیٹل نظام ہے۔

ٹیک کمپنیاں آن لائن ہیٹ اسپچیز پر یورپی یونین کے نئے ضابطہ اخلاق پر متفق

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''یہ ایک ڈیجیٹل والٹ ہے، جو صارفین کو اپنے اینڈروئڈ فونز یا دیگر ڈیوائسز کے ذریعے ادائیگیاں کرنے، لائلٹی کارڈز، بورڈنگ پاسز، ٹرین ٹکٹ اور دیگر کئی طرح کے کارڈز محفوظ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

(جاری ہے)

یعنی وہ سب کچھ جو آپ کے لیے آن لائن ادائیگیاں آسان بنا دیتا ہے۔ اس والٹ کے ذریعے پاکستانی صارفین نہ صرف آن لائن شاپنگ کر سکیں گے بلکہ ثنا سفیناز، گل احمد، اور جے ڈاٹ سمیت جن سٹورز پر 'ٹَیپ اینڈ پے‘ کی سہولت دستیاب ہوتی ہے، وہاں وہ اپنے موبائل فونز کے ذریعے ادائیگیاں کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ یہی صارفین دوران سفر اپنے بورڈنگ پاس اور ٹکٹیں بھی باآسانی اسی والٹ میں رکھ اور دکھا سکیں گے۔

‘‘ پاکستانی صارفین کے دو اہم مسائل

لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے ہیلے کالج آف کامرس سے وابستہ اور ای کامرس افیئرز کے ماہر، ڈاکٹر ماجد علی چوہدری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہپاکستان میں ای کامرس صارفین کو فنانشل ٹرانزیکشنز کی حفاظت اور قبولیت کے مسائل کا سامنا تھا۔ ان کے مطابق کچھ ویب سائٹس بعض کارڈز کے ذریعے کی جانے والی ادائیگی قبول نہیں کرتی تھیں اور بعض لوگوں کو اپنی رقم کی ترسیل کے محفوظ نہ ہونے کے خدشات کا سامنا رہتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب گوگل والٹ کی پاکستان میں بھی دستیابی سے یہ دونوں مسائل حل ہو گئے ہیں، ''اس سے صرف ان لوگوں کو پریشانی ہو گی، جن کے پاس سفید دھن نہیں ہے اور انہیں خطرہ ہے کہ ان کے آمدنی سے زیادہ اخراجات حکومت کے علم میں آ جائیں گے۔ ‘‘

ایران نے واٹس ایپ اور گوگل پلے پر عائد پابندیاں ختم کر دیں

انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی انفینیٹی سافٹ ویئر سولیوشنز کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر وقار عزیز نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ گوگل والٹ سے حکومت اور صارفین دونوں کو کافی فوائد حاصل ہوں گے۔

لوگ بغیر کسی پریشانی کے کم ٹیکس والی محفوظ ٹرانزیکشنز بھی کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کی معیشت کو ڈاکومنٹ کرنے میں بھی مدد ملے گی اور غیر قانونی ٹرانزیکشنز کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

محمد بن متین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ گوگل والٹ کی ایپ آسانی سے پلے اسٹور سے ڈاون لوڈ کر کے کسی بھی اینڈروئڈ ڈیوائس پر انسٹال کی جا سکتی ہے جبکہ مختصر اور محدود تصدیقی مراحل سے گزرنے کے بعد کوئی بھی صارف اپنے ڈاکومنٹس اور ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز اس ایپ میں رجسٹر کرا سکتا ہے۔

کئی پاکستانی بینکوں کی گوگل والٹ سروسز

اس وقت پاکستان کے جو بینک تجارتی بنیادوں پر گوگل والٹ کے ساتھ منسلک ہو چکے ہیں، ان میں بینک الفلاح، بینک آف پنجاب، فیصل بینک، حبیب بینک، میزان بینک اور یو بی ایل بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گوگل والٹ کے ذریعے جاز کیش سروس کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔

بینکنگ سیکٹر میں کام کرنے والے ایک ماہر کے مطابق آئندہ دنوں میں پاکستان میں الائیڈ بینک، ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک اور جے ایس بینک بھی گوگل والٹ سروس اپنا لیں گے۔

کیا یورپ کا نیا سرچ انجن گوگل کا مقابلہ کر سکے گا؟

ایک سوال کے جواب میں وقار عزیز نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ گوگل والٹ کے ذریعے کی جانے والی ادائیگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے کافی انتظامات کیے گئے ہیں اور انہیں ہیک کرنا یا ان میں مداخلت کرنا آسان نہیں ہو گا۔ اس ضمن میں ایک پاس ورڈ سمیت ایک تصدیقی نظام ہوگا جسے موبائل فون گم ہو جانے کی صورت میں بھی کسی دوسرے کی طرف سے استعمال کیا جانا آسان نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا، ''ویسے آج کل دنیا بھر میں ہیکنگ بھی جتنی زیادہ اور جدید ہو چکی ہے، تو یہ تو مستقبل میں ہی پتہ چل سکے گا کہ یہ والٹ پاکستان میں عام صارفین کو کس حد تک ڈیجیٹل تحفظ فراہم کرتا ہے۔‘‘

نقد ادائیگیاں، جرمن شہری دیگر یورپی باشندوں سے آگے

وقار عزیز کے مطابق گوگل والٹ کی مدد سے متعلقہ بینک کی اجازت کے ساتھ دوسرے ملکوں میں محدود مالی ادائیگیاں بھی ممکن ہوتی ہیں۔

پاکستانی حکومت ملکی معیشت کو ڈاکومنٹ کرنے کے لیے کئی طرح کے اقدامات کر رہی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق سال 2028 تک ملک کی 75 فیصد بالغ آبادی کے پاس ذاتی بینک اکاؤنٹ ہونے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان میں کے ذریعے کے مطابق والٹ کے کے لیے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • Google سیلفی ویڈیو فیچر، اکاؤنٹ سائن اِن مزید محفوظ بنانے کا نیا طریقہ
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ