جرمنی: مریضوں کے قتل کے ملزم نرس نے اندازوں سے زیادہ قتل کیے
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 15 مارچ 2025ء) مغربی جرمن شہر کولون سے خبر ر ساں ایجنسی ڈی پی اے کی طرف سے موصولہ رپورٹ کے مطابق ایک پلیاٹیو کیئر کلینک میں کام کرنے والے ایک مرد نرس پر پہلے سے مریضوں کے قتل کے متعدد الزامات عائد تھے تاہم اس کی طرف سے مزید مریضوں کے قتل کی نشاندہی ہوئی ہے۔ عدالت کی ایک خاتون ترجمان کے مطابق اُس ملزم پر اب ضمنی فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔
فرانس میں صدر ماکروں کا ’مرنے میں مدد‘ کے مجوزہ قانون کا اعلان
نرس پر جرائم کے عائد الزامات
مغربی جرمن شہر آخن کے ایک ''پلیاٹیو کیئر کلینک‘‘ میں، ایک میل نرس پر لگنے والے ان الزامات میں کہا گیا کہ وہ اپنے کام کے اوقات کو آسان بنانے کے لیے قتل اور دیگر جرائم کا مرتکب ہوا۔
(جاری ہے)
پلیاٹیو کیئر کلینکس میں ایسے مریضوں کو رکھا جاتا ہے جو کسی لاعلاج مرض میں مبتلا ہوں۔
جرمنی کے شہر آخن کی علاقائی عدالت نے کہا کہ پراسیکیوٹرز کا خیال ہے کہ اس نرس نے پہلے سے لگے الزامات کے علاوہ چار مزید مریضوں کو قتل کیا، جبکہ نو دیگر کو قتل کرنے کی کوشش کی۔
اسپین چوتھا یورپی ملک جہاں قتلِ رحم اب قانوناﹰ جائز ہو گیا
ملزم نرس کی تفصیلات
44 سالہ ایک جرمن نرس پر اب کُل نو قتل اور 34 افراد کو قتل کی کوشش کے الزامات عائد ہیں۔
اس نرس نے مریضوں کو درد کم کرنے اور سکون فراہم کرنے والی ادویات کی بہت زیادہ مقدار دے کر قتل کی کوشش کی۔ اس اقدام کا مقصد یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ نرس اپنی نائٹ شفٹس یا رات کی ڈیوٹی کے دوران اپنے لیے آسانی چاہتا تھا تاکہ اُسے مریضوں کے ساتھ کم سے کم وقت لگانا پڑے۔ چند کیسز میں اس نرس نے مبینہ طور پر مریضوں کو مارنے کی متعدد کوششیں کیں۔ الزامات کے مطابق اس نے یہ تمام جرائم دسمبر 2023 ء اور مئی 2024 ء کے درمیان کیے۔’جرمن نرس نیلز نے کم از کم97 مریضوں کو ہلاک کیا‘
ملزم کا ٹرائل
مذکورہ ملزم پر لگے ابتدائی 30 الزامات کے لیے عدالتی کارروائی جلد شروع ہونے والی ہے۔ اس میں پانچ قتل اور قتل کی کوشش کے25 الزامات شامل ہیں۔ کورٹ کی خاتون ترجمان کے مطابق اس امر کا ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا ہے کہ اس ٹرائل میں نرس پر لگے قتل کے ابتدائی کیسز پر کارروائی ہوگی یا اس ٹرائل میں اس پر عائد کیے گئے نئے الزامات کو بھی شامل کیا جائے گا۔
ک م/ا ب ا (ڈی پی اے)
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے مطابق ا مریضوں کے مریضوں کو کی کوشش قتل کی
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر