بلدیاتی انتخابات کے آثار فی الحال نظر نہیں آتے، فیض اللہ فراق
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
غذر پریس کلب کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ قانونی پیچیدگیاں ختم ہونے کے بعد ایڈیشنل اضلاع مستقل اضلاع میں تبدیل ہوں گے، ایڈیشنل اضلاع کا اپنا بجٹ ہو گا۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے آثار فی الحال نظر نہیں آتے تاہم جی بی کے عام انتخانات آئندہ سال مئی، جون میں ہوں گے۔ غذر پریس کلب کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ قانونی پیچیدگیاں ختم ہونے کے بعد ایڈیشنل اضلاع مستقل اضلاع میں تبدیل ہوں گے، ایڈیشنل اضلاع کا اپنا بجٹ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بجلی بحران کے خاتمے کیلئے سنجیدہ کام کرنے کی ضرورت ہے، توانائی بحران نیا نہیں ہے، اس کے حل کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔ صوبائی حکومت بجلی بحران پر قابو پانے کیلئے اہم اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد خالی اسامیوں پر میرٹ کے مطابق بھرتیاں ہوں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایڈیشنل اضلاع فیض اللہ فراق
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔