ہمدرد ہائوس میں سابقین امامیہ کے اعزاز میں افطار کا اہتمام، آئی ایس او کے مرکزی صدر کی خصوصی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 16th, March 2025 GMT
افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر فخر عباس نقوی نے کہا کہ ماہ رمضان ماہ توبہ، ماہ مغفرت، یہ مہینہ جہاں دیگر مناسبتوں سے معتبر ہے وہیں یہ مہینہ اقبلہ اول کی آزادی کے ساتھ بھی منسلک ہے، ہمیں اس مہینے قبلہ اول بیت المقدس کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ ادارہ خودی رجسٹرڈ پاکستان کے زیراہتمام چلنے والے ہمدرد ہائوس میں سابقین امامیہ کے اعزاز افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا، افطار ڈنر میں آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر سید فخر عباس نقوی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ افطار ڈنر میں عابد نواز، سلیم عباس صدیقی، طاہر رضاگردیزی، اسد عباس نوناری، عمار حیدر، عاطف حسین سرانی، مختار حسین، سید عاصم رضا شاہ، ثقلین حیدر، حسنین عباس انصاری، ثقلین نقوی، جواد حیدر جوئیہ، تراب حیدر، پروفیسر احمد عباس جعفری، احتشام حیدر، شعیب جعفری، حسن عباس گھلو اور دیگر نے شرکت کی۔ افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر فخر عباس نقوی نے کہا کہ ماہ رمضان ماہ توبہ، ماہ مغفرت، یہ مہینہ جہاں دیگر مناسبتوں سے معتبر ہے وہیں یہ مہینہ اقبلہ اول کی آزادی کے ساتھ بھی منسلک ہے، ہمیں اس مہینے قبلہ اول بیت المقدس کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔