Express News:
2026-07-24@13:23:55 GMT

کراچی کے شہری بنیادی مسائل کا شکار، اپوزیشن بھی لاتعلق

اشاعت کی تاریخ: 16th, March 2025 GMT

کراچی:

شہر قائد کے عوام اس وقت بنیادی مسائل کا شکار ہیں، مسائل کے حل کے لیے اپوزیشن جماعتوں کا کردار بھی سندھ حکومت کے خلاف دوستانہ پالیسی کے مطابق نظر آتا ہے۔

سینئر سیاسی تجزیہ کار ضیا عباس نے بتایا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، 8 فروری کے عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئی، تاہم عوام کو جو صوبائی حکومت سے توقعات تھیں ، وہ پوری نہیں ہو سکیں.

 

اپوزیشن جماعتیں ایم کیو ایم پاکستان ، جماعت اسلامی ، پاکستان تحریک انصاف ، گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کی جانب سے عوامی مسائل کے حل کے لیے کوئی مربوط کردار ادا کرتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہیں۔

اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سندھ حکومت کے خلاف اپوزیشن کی سیاسی حکمت عملی ٹھنڈی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار نواب قریشی نے بتایا کہ کراچی سے کامیاب ہونے والی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان اس وقت وفاقی حکومت کا حصہ ہیں۔

سندھ میں پیپلز پارٹی اور کراچی کی بلدیاتی حکومت پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کردار غیر فعال نظر آتا ہے۔ عملی طور پر اپوزیشن جماعتیں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اربن پلانر محمد توحید نے بتایا کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک مشترکہ کانفرنس منعقد کرنا ہو گی، جس میں شہر کے مسائل کے حل کے لیے قلیل ، درمیانی اور طویل المدتی پالیسیاں بنانے کے لیے حکمت عملی وضع کرنا ہو گی. 

مقامی فزیشن ڈاکٹر شعیب خان نے بتایا کہ جب انسان کو بنیادی سہولیات کا فقدان اور معاشی مسائل کا سامنا ہو گا تو انسان چڑچڑاہٹ اور ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کراچی کے مسائل کے حل کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ کے ایم سی سمیت دیگر بلدیاتی اداروں کو صوبائی حکومت مکمل معاونت فراہم کر رہی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کراچی کے عوام نے ایم کیوایم پاکستان کو مینڈیٹ دیا ہے۔ ایم کیو ایم سندھ میں اپوزیشن کا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ فرینڈلی اپوزیشن کا تاثر غلط ہے۔ 

ترجمان ایم کیو ایم نے کہا کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے وزیر اعظم کو ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنانے کی تجویز دیں گے، جماعت اسلامی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کی آواز ہے۔ پی ٹی آئی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اور ایم کیو ایم پاکستان کے پاس کراچی کے مسائل کے حل کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کراچی کے مسائل کے حل کے لیے ایم کیو ایم پاکستان پیپلز پارٹی نے بتایا کہ کے ترجمان کہ کراچی

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو