اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 مارچ ۔2025 )سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت کو بجلی 9 روپے 70 پیسے میں ملے اور بضد ہے کہ 50 روپے میں بیچیں، بوجھ بجلی صارفین نہیں بلکہ حکومت ہے وہ 50 روپے کی بجلی بیچنا چاہتی ہے، صارف 10 روپے کی بجلی خود بنا سکتا ہے تو 50 روپے کی کیوں خریدے.

ایک انٹرویو میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت کہتی ہے سولر استعمال کرنے والا صارف ہم پر بوجھ ہے، حکومت نے کہا ہے کہ 400 یونٹ پر سیلز ٹیکس لگے گا حکومت نے کہا کہ جو یونٹ خریدیں گے اس پر بھی سیلز ٹیکس کاٹیں گے، حکومت کہتی ہے 44 روپے کے یونٹ پر 9 روپے سیلز ٹیکس لیں گے، حکومت کہتی ہے کہ نیٹ میٹرنگ سے 150 ارب کا بوجھ ہے.

(جاری ہے)

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ نیپرا کے گزشتہ سال کے اعدادوشمار دیکھے ہیں 40 ارب کی نیٹ میٹرنگ بجلی خریدی گئی حکومت کہتی ہے جو گھریلو صارف مہنگی بجلی نہیں خرید رہا وہ بوجھ ہے ا نہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام آپ کے غلام نہیں یہاں کے شہری ہیں، حکومت کو بجلی سستی کرنی چاہیے، صارف مہنگی بجلی کیوں خریدے، موبائل فون نے بھی لینڈ لائن فون کی اجارہ داری ختم کردی تھی.

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اب لارج اسکیل بجلی جنریشن ختم ہوجائے گی لوگ سولر لگائیں گے آئندہ لوگ اپنے گھروں پر سولر لگائیں گے اور بجلی پڑوسیوں میں بانٹیں گے حکومت اپنے اقدامات سے مڈل کلاس شہریوں کو مار رہی ہے.                                                                                                    

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مفتاح اسماعیل نے کہا نے کہا کہ

پڑھیں:

24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا

علامتی فوٹو

حکومت نے مسلسل تیسرے روز پیٹرول جبکہ چوتھے روز ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔

اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 24 جولائی کے لیے ہوں گی۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔

اوگرا وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے بغیر قیمتوں کا اعلان کرے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔

یومیہ اعلان کے تحت اب تک کی تبدیلی

علم میں رہے کہ 21 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 35 پیسے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔

22 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔

اسی طرح 23 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • دو ہفتے کے دوران پٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ