نیب کی بحریہ ٹاؤن کے خلاف بڑی کارروائی، متعدد جائیدادیں اور اکاؤنٹس منجمد
اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT
نیب کی بحریہ ٹاؤن کے خلاف بڑی کارروائی، متعدد جائیدادیں اور اکاؤنٹس منجمد WhatsAppFacebookTwitter 0 17 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) نیب نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف فراڈ اور دھوکہ دہی کے متعدد مقدمات کی تحقیقات تیز کر دی ہیں۔ نیب کے مطابق بحریہ ٹاؤن کراچی، لاہور، تخت پڑی، نیو مری/گولف سٹی اور اسلام آباد میں واقع کثیرالمنزلہ رہائشی و کمرشل جائیدادوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔
نیب حکام کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے سینکڑوں بینک اکاؤنٹس اور گاڑیاں بھی منجمد کر دی گئی ہیں، تاکہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ مزید یہ کہ ملک ریاض اور ان کے قریبی ساتھیوں کے خلاف منی لانڈرنگ کے بھی ٹھوس شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سے مخصوص عناصر ملک ریاض کے دبئی پروجیکٹ میں مجرمانہ اعانت کے لیے رقوم منتقل کر رہے ہیں، اور ایسی کسی بھی منتقلی کو منی لانڈرنگ تصور کرتے ہوئے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
نیب نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ بحریہ ٹاؤن کی کسی بھی ترغیب میں نہ آئیں اور اپنی جمع پونجی کا تحفظ کریں۔ مزید برآں، مفرور ملزمان کو وطن واپس لانے کے لیے بھی مؤثر اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بحریہ ٹاو ن کے کے خلاف
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔