اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود عدالتی کمیشن کی ملاقات پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان سے نہ کروائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
نجی ٹی وی آج نیوز کے مطابق عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل کو ہفتہ کے روز صبح 11 سے 12 بجے کے درمیان ملاقات کرانے کا حکم دیا تھا۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے اپنی لا کلرک سکینہ بنگش کو کمیشن مقرر کیا تھا اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبد الغفور انجم کی موجودگی میں کمیشن کی ملاقات کا حکم دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز کمیشن تقریباً 3 گھنٹے اڈیالہ جیل کے اندر رہا اور کمیشن کو سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے متعلقہ آفس میں انتظار کرایا گیا مگر کمیشن کی عدالتی حکم کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہ کرائی گئی۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ مشال یوسفزئی بانی پی ٹی آئی کی وکیل ہیں یا نہیں؟ کمیشن کے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں پوچھنا تھا، بانی پی ٹی آئی کی عدالت میں جمع کرائی گئی لسٹ سے متعلق بھی کمیشن نے پوچھنا تھا، عدالت نے چار سوالات بانی پی ٹی آئی سے پوچھنے کا حکم دیا تھا۔
دوسری جانب سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاﺅنڈز کیس میں سزامعطلی کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
پی ٹی آئی وکلاءکی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست تیار کرلی گئی ہے۔

بھیک مانگنا ایک پیشہ بن گیا، بھکاری ایک گھنٹے میں کتنا کما رہے ہیں؟  شارجہ پولیس کی رپورٹ آگئی

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کمیشن کی

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا

اسلام آباد:

ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔

حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔

واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔

متعلقہ مضامین

  • این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟