جیمنی، اینڈرائنڈز میں گوگل اسسٹنٹ کی جگہ لینے کو تیار
اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT
سرچ انجن گوگل کی اسسٹنٹ کی سروسز کی جگہ اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس جیمنی لینے کو تیار ہے۔
کمپنی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ اینڈرائیڈ فونز میں گوگل اسسٹنٹ کی جگہ جیمنی کو دی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کی تازہ ترین اے آئی ماڈل جیمنی 2.5 کی خصوصیات کیا ہیں؟
ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا کہ رواں سال کسی وقت ایسا ہو جائے گا اور آئندہ چند ماہ کے دوران صارفین گوگل اسسٹنٹ کو جیمنی سے بدل سکیں گے۔
گوگل کی جانب سے اسسٹنٹ کو مکمل طور پر بند کرنے سے قبل جیمنی کو زیادہ سے زیادہ بہتر کیا جائے گا تاکہ صارفین کو گوگل اسسٹنٹ کی کمی محسوس نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کا تمام ایپ صارفین کو جیمنی لائیو اسسٹنٹ مفت پیش کرنے کا اعلان
یاد رہے کہ گوگل کی جانب سے گوگل اسسٹنٹ سروسز کو جیمنی میں تبدیل کرنے کا عندیہ پکسل 9 اسمارٹ فون میں جیمنی کو ڈیفالٹ ورچوئل اسسٹنٹ کی حیثیت دے کردیا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اے آئی ٹیکنالوجی جیمنی سرچ انجن گوگل گوگل اسسٹنٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی ٹیکنالوجی گوگل گوگل اسسٹنٹ گوگل اسسٹنٹ اسسٹنٹ کی گوگل کی
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے