وزیراعظم نے چینی کی قیمتیں کم کرنے کے لیے کمیٹی بنا دی
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے چینی کی قیمتوں میں کمی کیلیے شوگر ملز مالکان سے بات چیت کیلیے اسحق ڈار کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔
چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کے بعد سے ملک میں چینی کی قیمت میں 19 فیصد اضافہ ہوا اور فی کلو گرام قیمت 180 روپے تک بڑھ گئی ہے۔
وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے مطابق چینی کی قیمت ایک روپیہ بڑھنے سے صارفین کی جیب سے 2.
وزیراعظم آفس نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (PSMA) کے ساتھ مل کر چینی کی قیمتوں میں کمی کیلئے 10 رکنی کمیٹی بنائی ہے۔
کمیٹی پی ایس ایم اے کے ساتھ چینی کی ایکس مل قیمت میں کمی پر بات چیت کرے گی۔ کمیٹی کے ارکان میں وفاقی وزراء رانا تنویر، اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر توقیر شاہ، طارق باجوہ، پی ایس ایم اے کے چار نمائندے شامل ہیں.
سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار سیکرٹریٹ سپورٹ فراہم کرینگے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت ہارون اختر خان کو کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا۔ کمیٹی کو تین دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنیکی ہدایت کی گئی ہے۔
کمیٹی کا پہلا اجلاس گزشتہ روز ہوا، حکومت نے شوگر ملز مالکان کو بتایا کہ چینی کی اوسط پیداواری قیمت 153 روپے کلو ہے اور انڈسٹری کو خود ہی قیمتیں کم کرنی چاہئیں۔
حکام کے مطابق شوگر ملز نے کوئی بھی نئی قیمت مقرر کرنے سے پہلے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کیلئے وقت مانگا ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق چینی کی قیمتوں میں ایک ہفتے کے اندر 10 روپے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں27 روپے کا اضافہ ہوا۔
وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی کے ایک اہلکار نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ چینی کی قیمت میں ایک روپے فی کلو اضافے سے شوگر ملز مالکان کو 2.8 ارب روپے کا فائدہ ہوا جبکہ صرف ایک ہفتے میں انہوں نے 26 ارب روپے جبکہ کرشنگ سیزن کے آغاز سے اب تک 76 ارب روپے کے اضافی فوائد حاصل کئے ہیں۔
چینی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ وزیر اعظم کا چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ تھا۔ ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال جولائی سے فروری تک 757,779 میٹرک ٹن چینی برآمد کی گئی۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں جب صرف 33,101 میٹرک ٹن چینی برآمد کی گئی تھی، اس مالی سال میں برآمد میں 2190 فیصد اضافہ ہوا۔ برآمد کنندگان نے جولائی سے فروری کے عرصے کے دوران 407 ملین ڈالر کمائے۔
پی ایس ایم اے خیبرپختونخوا چیپٹر کے صدر سکندر خان نے کہا کرشنگ سیزن کے دوران گنے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے چینی کی قیمتیں بڑھی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چینی کی قیمتوں میں چینی کی قیمت چینی برا مد کے مطابق ارب روپے شوگر ملز
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔