بی ایل اے کا نیا حملہ، نوشکی میں ایف سی قافلہ نشانہ، خود کش حملے میں5 اہلکار شہید، 12 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
خودکش حملہ آور نے دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی ایف سی کے قافلے سے ٹکرائی، دھماکا پاک ایران شاہراہ پر ہوا،آواز دور دور تک سنی گئی، جوابی کارروائی میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے
دھماکے کے بعد نوشکی کے اسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ ،متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ہے، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا
نوشکی میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے قافلے پر خودکش حملے میں 5اہلکار شہید اور 12 سے زائد زخمی ہوگئے، متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث پولیس نے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کردیا جبکہ جوابی کارروائی میں 3 دہشت گرد ہلاک کردیئے گئے،نوشکی کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) ظفر اللہ سملانی کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔ایس ایچ او نوشکی نے کہا کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ایک خودکش حملہ آور نے دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی ایف سی کے قافلے سے ٹکرائی۔پولیس کے مطابق دھماکے میں 5 اہلکار جاں بحق 12 سے زائد زخمی ہوگئے، زخمیوں کو ایف سی کیمپ اور نوشکی ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا جارہا ہے جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔پولیس کے مطابق دھماکا پاک ایران شاہراہ این 40 پر ہوا، جس کی آواز دور دور تک سنی گئی، دھماکے کے بعد سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کاگھیراؤ کرلیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔