سی ٹی ڈی نے کالعدم ٹی ٹی پی الخوارج کے گرفتارکارکن کی فوٹیجز حاصل کرلیں
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی) نے کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی الخوارج کے اہم کارکن کی 34 مقامات کی فوٹیجز حاصل کرلیں۔
سی ٹی ڈی پولیس نے گرفتار کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی الخوارج کے اہم کارکن خلیل الرحمن کی 34 مقامات کی فوٹیجز حاصل کرلیں۔ فوٹیجز میں گرفتار ملزم کو مختلف علاقوں میں پیدل گھومتے دیکھا جاسکتا ہے۔گرفتار ملزم کھڈا مارکیٹ سے سعودی قونصلیٹ تک پیدل چلتا ہوا آیا۔ گرفتار ملزم سعودی قونصلیٹ کے قریب صدر جانے والی بس پر چڑھا ایکس 10 روٹ کی بس کے ذریعے ملزم ایمپریس مارکیٹ پہنچا۔
مزید پڑھیں: کراچی؛ طالبان کے حق میں وال چاکنگ کرنے والا ٹی ٹی پی کا اہم کارکن گرفتار
گرفتار ملزم بس سے اتر کر پیدل چلتا ہوا مزار قائد پر پہنچاگرفتار ملزم 3 بجکر 31 منٹ پرمزار قائد میں داخل ہوا تھا۔ملزم نے مزار قائد پر4 بجکر 10 منٹ پرٹی ٹی پی کے لیے ویڈیو بنائی۔ خلیل الرحمن 4 بجکر 40 منٹ پر مزارسے نکلا اور پارکنگ پلازہ سے ہوتا ہوا ایمپریس مارکیٹ پہنچا۔ملزم ساتھی کے ہمراہ صدر سے بس میں بیٹھا اور واپس ڈیفنس گی۔
انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب کے مطابق ملزم خلیل الرحمن کا تعلق نُور ولی اللہ گروپ سے ہے۔ ملزم نے الخوارج کمانڈر مصباح کے حکم پرملزم نے مزار قائد پر ویڈیوز بنائیں۔ گرفتار ملزم نے ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا اور دھمکی دی کہ ہم کراچی آگئے ہیں۔ گرفتار ملزم افغانستان میں دہشت گردی کی ٹریننگ بھی حاصل کرچکا ہے۔
خلیل الرحمن افغانستان سے کراچی آکرمخلتف ہوٹلوں پر کام کرتا رہا ہے۔ ملزم نے بعد میں ایک پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی میں ملازمت اختیار کرلی۔ انچارج سی ٹی ڈی نے مزید بتایا کہ گرفتارملزم ڈیفنس میں ایک بنگلے پرسیکیورٹی گارڈ کی ڈیوٹی کرتا تھا۔ ملزم رات میں دیواروں پرٹی ٹی پی کی وال چاکنگ کرتا تھا ۔گرفتار ملزم سے مذید تفتیش کا عمل جاری ہے اورتفتیش کے دوران مزید انکشافات متوقع ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گرفتار ملزم خلیل الرحمن سی ٹی ڈی ٹی ٹی پی
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان