کاز لسٹ منسوخ کرنے کے بجائے میری عدالت کی بنیادوں میں بارود رکھ کر اُڑا دیتے: جج اسلام آباد ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
---فائل فوٹو
عمران خان سے ملاقات کے کیسز میں کاز لسٹ منسوخ کرنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ کاز لسٹ منسوخ کرنے کے بجائے آپ میری عدالت کی بنیادوں میں بارود رکھ کر اُڑا دیتے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ می عدالتی حکم کے باوجود بانئ پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔
ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل اسلام آباد ہائیکورٹ سلطان محمود عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس دوسرے بینچ کو منتقل کرنے پر ڈپٹی رجسٹرار کو طلب کیا تھا۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے اسٹیٹ کونسل سے استفسار کیا کہ جو کچھ ہوا ہے کیا آپ اس میں ملوث ہیں؟ آپ نے کس کے کہنے پر کاز لسٹ منسوخ کی؟
اسلام آباد ہائیکورٹ میں 8 فروری 2021ء کو ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بلاک پر حملے کے کیس کی سماعت ہوئی۔
ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل نے جواب دیا کہ ہمیں چیف جسٹس آفس سے ہدایات آئی تھیں، چیف جسٹس آفس سے کہا گیا تھا کہ لارجر بینچ بنادیا ہے، اب اس کیس کی کازلسٹ منسوخ کردیں۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے سوال اٹھایا کہ کیس منتقلی کے لیے متفرق درخواست کس قانون کے تحت دائر کی گئی؟ کیا ریاست جج کی مرضی کے بغیر کیس لارجر بینچ کو منتقل کرنے کی حمایت کرتی ہے؟
جج نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ یہ کرنے کی بجائے آپ میری عدالت کی بنیادوں میں بارود رکھ کر اڑا دیتے، ہم بنیادی سوالات ہی طے نہیں کر پاتے، ہر 10سال بعد بنیادی اصولوں پر اسی مقام پر کھڑے ہوجاتے ہیں۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ اس سے بڑی حماقت نہیں کہ قانون کی عملداری کے بغیر معیشت ترقی کرے، یہ میری ذات کا یا میرے اختیارات کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ معاملہ ہائیکورٹ کی توقیر کا ہے، کیا اس طرح عوام کا نظام انصاف پر یقین رہے گا؟
مشال یوسفزئی نے کہا ہمارےساتھ باہر یہ ہورہا ہے تو بانئ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے ساتھ جیل میں کیا کرتے ہوں گے؟
عدالت نے کہا آپ وہ بات کررہی ہیں ہمیں تو اپنے ادارے کی فکر ہوگئی ہے، گائیڈڈ میزائل آپ کی طرف جارہا تھا وہ اب ہماری طرف آرہا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائیکورٹ کاز لسٹ منسوخ چیف جسٹس عدالت کی کیس کی
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔