لاہور میں 82 لاکھ کی ڈکیتی: 14 سال سے کام کرنے والی 2 گھریلو ملازمہ واردات کی ماسٹر مائنڈ نکلیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
لاہور کے علاقے ڈیفنس میں 82 لاکھ روپے کی ڈکیتی کی واردات میں 14 سال سے کام کرنے والی 2 گھریلو ملازمہ خواتین واردات کی ماسٹر مائنڈ نکلیں۔
پولیس نے کہا کہ ملازمت کرنے والی خواتین نے ڈکیت گینگ کے ساتھ مل کر واردات کروائی، واردات میں ملوث گروہ کا سرغنہ عثمان بٹ ساتھیوں سمیت گرفتار کیا۔
پولیس حکام کے مطابق گھریلو ملازمہ خواتین کو بھی گرفتار کرلیا گیا، ملزمان سے چوری شدہ سونا اور نقدی برآمد کرلی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملازمہ خواتین واردات کے وقت گھر پر موجود تھیں، سحر اور بشری نے ڈاکوؤں کو گھر میں داخل کروایا۔
حکام کے مطابق ڈاکوؤں کو گھر کی تمام قیمتی اشیاء کی لوکیشن معلوم تھی، ڈاکو نے سونا ایک جیولری شاپ پر فروخت کیا جہاں سے برآمد کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔