پشاور:

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ طورخم بارڈر عید الفطر سے پہلے کھلنا ضروری تھا اور یہ کامیابی ہمیں اجتماعی کاوشوں کی وجہ سے ہی ملی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق طورخم بارڈر کھولنے سے متعلق افغانستان کے ساتھ مذاکرات کیلئے بنائے گئے جرگہ اراکین کی وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور سرحد کھولنے کیلیے سنجیدہ اقدامات و بروقت کاوشوں پر علی امین گنڈا پور کا شکریہ ادا کیا۔

جرگہ اراکین نے کہا کہ بارڈر کی بندش سے کاروبار و صنعت اور عام لوگوں کو بے انتہا مسائل کا سامنا تھا جبکہ تاجر برادری بھی شدید مشکلات کا شکار تھی جس کا احساس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بارڈر کھولنے کیلئے تمام متعلقہ فورمز پر کوششیں کیں۔ تمام کاروباری افراد بروقت اور نتیجہ کوششوں کیلئے وزیر اعلیٰ کے بے حد مشکور ہیں۔

اراکین نے کہا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اس مسئلے کے حل کے لئے قائدانہ اور مؤثر کردار ادا کیا، 25 دن بارڈر بند رہنے کی وجہ سے دونوں اطراف 12 ہزار مال بردار گاڑیاں کھڑی رہیں، جس سے ہزاروں لوگوں کا کاروبار متاثر ہوا۔

وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ بارڈر کھولنے کے لئے جرگے کی کوشش قابل تحسین ہیں، ماہ رمضان میں طورخم بارڈر بندش سے دونوں اطراف کے کاروباری اور عام لوگوں کو مشکلات درپیش تھیں۔

انہوں نے کہا کہ سرحد بند ہونے سے نہ صرف کاروباری لوگوں بلکہ حکومتی خزانے کو بھی اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا، عید الفطر کے پیش نظر طورخم بارڈر کا کھولنا انتہائی ضروری تھا۔

علی امین گنڈا پور نے کہا کہ طورخم سرحد کھلنے کی کامیابی اجتماعی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی، آئندہ بھی اس طرح کے مسائل کے حل کیلئے مل کر کوششیں کریں گے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: علی امین گنڈا پور گنڈا پور نے وزیر اعلی نے کہا کہ

پڑھیں:

پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثر کو بہتر بناسکتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ

پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ملک دہشتگردی جیسے مسائل سے دوچار ہے، ہمارے جوانوں نے بہت قربانیاں دیں ہیں، کچے کے علاقے کچھ عرصے پہلے تک بحران سے دوچار تھے، یقین دہانی کرواتا ہوں کہ ان شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون شکن عناصر کو عدالتوں کے کٹہرے میں لانا پولیس فورس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ سعید آباد پولیس ٹریننگ سینٹر میں 132ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا آج 300 سے زائد خواتین اپنی ٹریننگ مکمل کررہی ہیں، مجھے خواتین کی کامیابی پر بہت خوشی ہوئی کہ ایک تازہ دم دستہ عوام کی خدمت کےلیے تیار ہے، شہریوں کو پر امن زندگی دینے کی ذمے داری اب آپ پر عائد ہوتی ہے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ملک دہشتگردی جیسے مسائل سے دوچار ہے، ہمارے جوانوں نے بہت قربانیاں دیں ہیں، کچے کے علاقے کچھ عرصے پہلے تک بحران سے دوچار تھے، یقین دہانی کرواتا ہوں کہ ان شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ پولیس کی فلاح و بہبود ہمیشہ سے میری اولین ترجیح رہی ہے، مستقبل میں بھی پولیس کے تمام مسائل کو بہتر اور ترجیحی انداز میں حل کیا جائے گا، پاس آؤٹ ہونے والے جوان فیلڈ میں جا کر سندھ پولیس کا نام مزید روشن کریں گے۔ مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ پولیس اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے ہی اپنے امیج (تاثر) کو بہتر بنا سکتی ہے، عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون شکن عناصر کو عدالتوں کے کٹہرے میں لانا پولیس فورس کی بنیادی ذمہ داری ہے، سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے
  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثر کو بہتر بناسکتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • لاہور میں 4 روز کے دوران کتنی ملی میٹر بارش ہوئی؟ پی ڈی ایم اے رپورٹ جاری
  • بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ہیڈکوارٹر میں اہلکار کی اندھا دھند فائرنگ، 2 اہلکار ہلاک، تیسرے کی حالت نازک
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم