جی سی یونیورسٹی، فلسطین کی تاریخ اور غزہ کے انسانی بحران کی تصویری نمائش
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
ایڈوائزر فلسطین سوسائٹی، محمد منظور الہی نے اپنے خطاب میں طلبہ میں فلسطین کی تاریخی حیثیت سے متعلق شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔نمائش کے شرکاء نے غزہ میں جاری بحران کے تعلیمی شعبے پر تباہ کن اثرات کو اجاگر کیا۔ اسلام ٹائمز۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یو) لاہور میں فلسطین سوسائٹی اور فرینڈز آف فلسطین کے اشتراک سے تصویری نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد فلسطین کی تاریخ اور غزہ میں جاری انسانی بحران کو اجاگر کرنا تھا۔ نمائش کا افتتاح ڈین، فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز، پروفیسر ڈاکٹر بابر عزیز اور پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کی چیئرپرسن، پروفیسر ڈاکٹر فوزیہ غنی نے کیا۔ اس موقع پر انٹرنیشنل ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کے انچارج، احمد رضا خان اور کنٹرولر امتحانات، شہزاد احمد بھی موجود تھے۔ ایڈوائزر فلسطین سوسائٹی، محمد منظور الہی نے اپنے خطاب میں طلبہ میں فلسطین کی تاریخی حیثیت سے متعلق شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔نمائش کے شرکاء نے غزہ میں جاری بحران کے تعلیمی شعبے پر تباہ کن اثرات کو اجاگر کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطین کی
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔