واشنگٹن:

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو روسی صدر سے ہونے والی حالیہ گفتگو کے اہم نکات سے آگاہ کیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ٹیمی بروس نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور صدر زیلنسکی کے درمیان ایک فون کال ہوئی، جس میں زیلنسکی نے یوکرائنی اور امریکی ٹیموں کے مشترکہ کام کے نتیجہ خیز آغاز پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی ملاقات نے جنگ کے خاتمے کی سمت میں اہم قدم اٹھایا ہے۔

ٹیمی بروس نے مزید کہا کہ صدر زیلنسکی نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امریکا کی حمایت اور امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یوکرین اور امریکا مل کر جنگ کے حقیقی خاتمے کے لیے کام کریں گے اور صدر ٹرمپ کی قیادت میں پائیدار امن حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے توانائی کے شعبے میں جزوی جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس پر آئندہ دنوں میں سعودی عرب میں ہونے والی ملاقات میں مزید تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ دونوں صدور نے جنگ کے مکمل خاتمے اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدام اہم سمجھا۔

ٹیمی بروس نے کہا کہ صدر زیلنسکی نے مکمل جنگ بندی کی اپنانے پر آمادگی کا اعادہ کیا اور صدر ٹرمپ نے یوکرین کی بجلی کی فراہمی اور نیوکلیئر پاور پلانٹس کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔

امریکا ان پلانٹس کو چلانے میں اپنی بجلی اور افادیت کی مہارت فراہم کر سکتا ہے۔

صدر زیلنسکی نے جنگی قیدیوں کے تبادلے اور انسانی امداد کے بڑھانے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے یقین دہانی کرائی کہ دونوں فریقین مل کر کام کریں گے تاکہ جنگ بندی کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

دونوں صدور نے اپنی ٹیموں کو ہدایت دی کہ وہ جزوی جنگ بندی کو نافذ کرنے کی کوشش کریں اور اس کے تکنیکی مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ٹیمی بروس نے صدر زیلنسکی زیلنسکی نے کہا کہ صدر کے لیے

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم

روم:   پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار