شہباز حکومت سولر صارفین کو بدنام کرنے کیبجائے حقیقی مسائل حل کرے، مفتاح اسماعیل
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
اپنے بیان میں سابق وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ چار ماہ پہلے اویس لغاری کے باس کہہ رہے تھے کہ "سولر ہی اصل حل ہے"، پھر اب کیا بدل گیا؟ کیا سورج کی روشنی کم ہوگئی یا مسلم لیگ (ن) ایک اور یوٹرن لے رہی ہے؟ اسلام ٹائمز۔ سابق وفاقی وزیرِ خزانہ و عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ شہباز حکومت کو سولر صارفین کو بدنام کرنے کے بجائے حقیقی مسائل حل کرنے چاہئیں، جو مہنگی ہونے کے باعث گرڈ سے کم بجلی خرید رہے ہیں، وہ گرڈ پر بوجھ نہیں ڈال رہے۔ اپنے بیان میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ چار ماہ پہلے اویس لغاری کے باس کہہ رہے تھے کہ "سولر ہی اصل حل ہے"، پھر اب کیا بدل گیا؟ کیا سورج کی روشنی کم ہوگئی یا مسلم لیگ (ن) ایک اور یوٹرن لے رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرے دوست اویس خان لغاری کہتے ہیں کہ میں عوام کو گمراہ کر رہا ہوں، اویس لغاری کے مطابق میں غلط اعداد و شمار استعمال کر رہا ہوں، وہ یہ نہیں بتاتے کہ کس طرح گمراہ کر رہا ہوں اور کون سے غلط اعداد و شمار دے رہا ہوں۔ سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ سولر صارفین کی وجہ سے 150 ارب روپے کا بوجھ صرف غلط تصور اور من گھڑت بات ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ موجودہ سولر صارفین کو 27 روپے فی یونٹ مل رہے تھے، اب انہیں 22.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سولر صارفین کو مفتاح اسماعیل روپے فی یونٹ نے کہا کہ رہا ہوں
پڑھیں:
بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ بجلی کے مجموعی بلوں میں کمی ہوئی ہے تاہم یہ درست ہے کہ فکسڈ چارجز دوگنا ہو گئے ہیں۔ سبسڈی ملتی رہی تو بجلی کی قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ کمی کرتا رہوں گا۔ آنے والے دنوں میں دوپہر کے وقت شمسی توانائی سے کم نرخوں پر بجلی فروخت کی جائے گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ جب مفتاح اسماعیل خود وزیر تھے تو 18 ہزار میگاواٹ خریدنے جا رہے تھے، ہم صرف 9 ہزار میگاواٹ خریدنے جا رہے ہیں، جس کی تفصیلات موجود ہیں۔ مجھے نہیں معلوم مفتاح اسماعیل کے پاس 26000 میگاواٹ کا اعداد و شمار کہاں سے آیا۔ اس اعداد و شمار میں نیٹ میٹرنگ بھی شامل ہے، جس پر کوئی صلاحیت کی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ جولائی 2025 سے اب تک بجلی کی کھپت میں 8 سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ گزشتہ 9 سے 10 ماہ میں بجلی کی کھپت میں تقریباً 7 سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بجلی کی کھپت بڑھ گئی ہے جو نیپرا کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ جب میں وزارت میں آیا تو اس میں سے 9 ہزار میگاواٹ لی۔ بقیہ 9000 میگاواٹ بجلی داسو اور بھاشا سے خریدی جائے گی۔ اس 9,000 میگاواٹ میں 1,200 میگاواٹ کا ایٹمی پلانٹ بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق میں نے پاور ڈویژن کے اخراجات آدھے اور ڈسکوز کے نقصانات کو کم کیا ہے۔ اس سال ڈسکوز کے نقصانات کو 586 ارب روپے سے کم کر کے 300 ارب روپے کر دوں گا۔ میں نے ٹیکس دہندگان کا پیسہ آدھا کر دیا ہے جو ہمارے فضول خرچیوں پر استعمال ہو رہا تھا۔ اگر سبسڈی جاری رہی تو بجلی کی قیمت میں 4، 5 سے 6 روپے کمی کرتا رہوں گا، میں نے ٹیکس دہندگان کے 600 ارب روپے بچائے ہیں۔
مزید پڑھیں۔روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی