عمران خان کو رہا کئے بغیر کوئی ڈائیلاگ نہیں ہوسکتے، علی امین گنڈا پور
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
افغانستان سے ہزاروں کلومیٹر کی سرحد ہے، افغانستان سے مذاکرات کی بات کرتا ہوں تو مخالفت کی جاتی ہے، پی ڈی ایم حکومت میں بھی طالبان سے بات کرنے کا فیصلہ ہوا، ملک میں بہتری کےلیے قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ خیبر پختوانخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ عمران خان کو رہا کئے بغیر کوئی ڈائیلاگ نہیں ہوسکتے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے افطار پارٹی کی تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ حکومت کو درپیش مالی مشکلات سے نکال دیا ہے، صوبہ اس وقت 159 ارب روپے سرپلس ہے، صوبہ پنجاب 148 ارب روپے خسارہ میں ہے، ہم صوبہ میں شفافیت لائے ہیں۔
علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے ہمارے صوبے میں کرپشن ہورہی ہے، اگر کرپشن ہو رہی ہوتی تو صوبہ سرپلس ہوتا۔؟ ایسی کرپشن تو پھر تمام صوبوں میں ہونی چاہیے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی وہی سپرٹس ہیں، ان سے ہر موضوع پر بات ہوجاتی ہے، عمران خان سے ملاقات کے لئے بہت کم ٹائم ملتا ہے، قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے متعلق میں نے بانی سے کہا کہ شرپسندوں کو دوبارہ جڑیں پکڑنے کا موقع ملا وہ ہماری پالسیوں کی غلطی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے ہزاروں کلومیٹر کی سرحد ہے، افغانستان سے مذاکرات کی بات کرتا ہوں تو مخالفت کی جاتی ہے، پی ڈی ایم حکومت میں بھی طالبان سے بات کرنے کا فیصلہ ہوا، ملک میں بہتری کے لیے قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ علی امین گنڈا پور کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کئے بغیر کوئی ڈائیلاگ نہیں ہوسکتے، عوام کے بغیر کوئی لڑائی نہیں جیتی جا سکتی، دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے عوامی اعتماد ضروری ہے، عوامی رائے کے ساتھ چلنا پڑے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علی امین گنڈا پور افغانستان سے کہنا تھا کہ بغیر کوئی
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
قابض افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان کے مختلف صوبوں میں آزادی پسند تحریکیں زور پکڑ گئیں.
بدخشان میں چندماہ میں دوسرےضلعی گورنرکی ہٹ دھرمی پرمبنی برطرفی نےطالبان کےاندرونی خلفشارکوآشکارکردیا۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان رجیم کیخلاف نئے مسلح گروہ سپاہیان میہن نے بدخشان کے ضلع یفتلی سفلی پرقبضہ کرکےاپنی موجودگی کا باضابطہ اعلان کر دیا
یہ گروہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنےوالےافراد پرمشتمل ہے جن میں سابق سیکیورٹی اہلکاراورمقامی باشندےشامل ہیں۔
ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل کی رپورٹ کے مطابق طالبان اور جمعہ خان فاتح کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوئے،بدخشان میں ان کےحامیوں اورطالبان قیادت کےدرمیان کشیدگی برقرارہے۔
بدخشان میں اندرونی کشیدگی بھی عروج پر،ضلعی گورنرقاری مطیع الرحمان کوتقرری کےایک ہفتےبعدہی عہدے سےہٹا دیا گیا، طالبان مخالف گروہوں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اورافغانستان فریڈم فرنٹ بھی بدخشاں سمیت افغانستان کے کئی صوبوں میں سرگرم ہیں۔
افغان مزاحمتی تنظیم نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نےایکس اکاونٹ پرمزاحمتی فورسزکی نئی ویڈیواپ لوڈکردی۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کےایکس پراپ لوڈ ویڈیومیں طالبان مخالف فورسزکواہم علاقےمیں گشت کرتےہوئےدیکھاجاسکتا ہے۔