عیدالفطر کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 30 مارچ طلب
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)عیدالفطر کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس اتوار 30 مارچ کو طلب کر لیا گیا ہے۔رویت ہلال کی زونل کمیٹیوں کے اجلاس مقررہ مقامات پر ہوں گے۔پاکستان میں عیدالفطر 31 مارچ کو ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں، ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ چاند کی پیدائش رواں ماہ کی 29 تاریخ کو ہو گی۔
ماہرینِ کے مطابق سعودی عرب میں 29 مارچ کو چاند نظر آنے کے امکانات نہیں، پاکستان اور سعودی عرب میں اس سال عید الفطر ایک ہی روز 31 مارچ کو ہونے کے امکانات ہیں۔ماہرینِ فلکیات کے مطابق 30 مارچ کو دنیا کے اکثر حصوں میں چاند انسانی آنکھ سے بھی دیکھا جا سکے گا، 30 مارچ کو چاند ان علاقوں میں دیکھا جا سکے گا جہاں موسم صاف ہو گا۔ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ 30 مارچ کو مکہ میں چاند کی عمر 28 گھنٹے 38 منٹ جبکہ کراچی میں 26 گھنٹے 50 منٹ ہو گی۔
محض ہنسنے کی خاطر ہنسیے، یہ بذات خود اپنے آپ کو معقول اور جائز ثابت کرتی ہے، آپ کوہنسنے کیلئے کسی وجہ یا منطق کی ضرورت نہیں، بس ہنس دیجیے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مارچ کو
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔