پنجاب اسمبلی میں پولیس کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد جمع
اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT
لاہور:
پنجاب اور خیبرپختونخوا بارڈر پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے پر پنجاب پولیس کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی گئی۔
قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔
قرارداد کے متن کے مطابق یہ ایوان پنجاب پولیس کی بہادری کو سراہتا ہے، جنہوں نے کورٹ مبارک کے قریب خوارج کی جانب سے کیے گئے حملے کو انتہائی پروفیشنل انداز میں ناکام بنایا۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پنجاب پولیس کے جوانوں نے نہ صرف دہشتگردوں کے عزائم خاک میں ملا دیے بلکہ صوبے میں ممکنہ دہشتگردی کی منصوبہ بندی کو بھی ناکام بنا دیا۔
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ یہ ایوان پنجاب پولیس سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پنجاب پولیس
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔