عدلیہ کی بنیادوں میں بارُود!!
اشاعت کی تاریخ: 25th, March 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ پر ایک عرصے سے جلالی کیفیت طاری ہے۔ اِس کیفیت کا ارتعاش، شہرۂِ آفاق چھبیسویں ترمیم سے پہلے ہی محسوس کیا جارہا تھا۔ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ اِس ارتعاش کا سبب کیا تھا جو پہلے اضطراب اور پھر اشتعال کی شکل اختیار کرگیا۔ تحقیق وجستجو کرنے والے صحافی اور معاملات کو گہری نظر سے دیکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ اِس کیفیت کا کچھ نہ کچھ تعلق تحریکِ انصاف کے بانی اور قائد، عمران خان کی گرفتاری، قید اور اُن پر بنے گوناں گوں مقدمات سے ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کا رویہ اُن کے بارے میں ہمیشہ نہایت مشفقانہ ،ہمدردانہ بلکہ عاشقانہ رہا۔ پہلی گرفتاری کے فوراً بعد جب سرِشام خصوصی عدالت لگی اور حکم صادر ہوا کہ عالی مرتبت ملزم کو مرسڈیز گاڑی میں بٹھاکر، ججوں کے لئے مخصوص گیٹ سے عدالت لایاجائے تو انتظامیہ کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔ خان صاحب کو لایاگیا تو چیف جسٹس، عمر عطا بندیال بصد مشکل تقاضائے منصب کے مطابق توازن قائم رکھ پائے۔ چبوترے سے نیچے اُتر کر بغل گیر تو نہ ہوئے لیکن ’’گُڈ ٹو سی یُو‘‘ کہہ کر، نہایت بے ساختگی سے اپنے جذباتِ مسرّت کا اظہار کچھ اِس طرح کیا کہ تاریخ رقم ہوگئی۔ اُنہوں نے یہ حکم بھی صادر فرمایا کہ ملزم کو رات کے وقت، پولیس لائن کے آراستہ پیراستہ بنگلے میں رکھا جائے۔ اُسے جو بھی ملنے آئے، روکا نہ جائے۔ چنانچہ رات کو صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی انواع واقسام کے کھانوں کے طباق اُٹھائے پولیس لائن پہنچ گئے۔ یوں پاکستان کے منصفِ اعظم نے ایک واضح پیغام دیا کہ عمران خان کو نوازشریف، آصف زرداری یا اِس قبیل کا کوئی عام قیدی نہ سمجھا جائے، اُس کا مرتبہ ومقام اُن سب سے منفرد وممتاز ہے۔ عمرعطا بندیال اُس روایت کی رِدائے خوش رنگ میں نئے بیل بوٹے ٹانک رہے تھے جسے آصف سعید کھوسہ، عظمت سعید شیخ، ثاقب نثار اور اُن کے رفقاء نے بڑی محنت سے بُنا تھا۔ قاضی فائز عیسیٰ نے زمامِ عدل سنبھالی تو عمران نواز روایت کے پاسبانوں کے پَر بندھ گئے اور اُن کی اُڑانیں محدود ہوگئیں۔
آج سے ٹھیک ایک برس پہلے جب اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ جج صاحبان کا شہرۂِ آفاق خط منظر عام پر آیا تو ایک کھلبلی سی مچ گئی۔ سوال پیدا ہوا کہ یکایک اِس طرح کا خط لکھنے اور اُسے کمال اہتمام کے ساتھ میڈیا میں نشر کرنے کا سبب کیا ہے؟ خط میں ’’ایجنسیوں‘‘ کی مداخلت کا ذکر کیاگیا۔ اِس ضمن میں کئی ماہ پرانے کسی واقعہ کو بطور سند بھی پیش کیاگیا۔ اہلِ پاکستان کے لئے یہ کوئی چونکا دینے والی باتیں نہ تھیں۔ خود چھ خط نویس جج صاحبان، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز بھی عدل کی دنیا میں اچانک وارد ہونے والے اجنبی نہیں تھے۔ سب کو اپنے وطن کی آب وہوا اور موسموں کے چال چلن کا بخوبی اندازہ تھا۔ جسٹس محسن اختر کیانی تو اُس وقت بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کا حصہ تھے جب اُن کے خط سے ساڑھے پانچ برس قبل، اکتوبر2018ء میں اُن کے سینئر ترین جج شوکت عزیز صدیقی کو، ایسے ہی ایک جُرم، کی پاداش میں نمونہ عبرت بنا دیاگیاتھا۔ تب ، ’’ایجنسیوں کے کردار‘‘ کے سب سے بڑے نقاد جسٹس اطہر من اللہ کے لبوں سے ایک حرفِ احتجاج تک نہ پھوٹا تھا۔ شوکت عزیز کے جانے سے اُنہیں چیف جسٹس کی مسند پر فروکش ہونے کا موقع مل گیا اور وہ بصد تمکنت اس منصبِ جلیلہ پر فائز ہوگئے۔ تب جسٹس محسن اختر کیانی نے بھی لب بستہ رہنے کو ترجیح دی اور حق گوئی و بے باکی کو آنے والے ساڑھے پانچ سالوں تک موقوف رکھا۔ ممکن ہے اُس وقت، ’’ایجنسیوں‘‘ کے کردار کا وزن ترازو کے کسی ایسے پلڑے میں ہو، جو جج صاحبان کی نظر میں قابلِ گرفت نہیں تھا۔
اب تو اڈیالہ جیل سے شاہراہِ دستور کے کنارے کھڑی عالی مرتبت عمارتوں تک خطوں کا ایک سلسلہ ہے کہ تھمنے میں نہیں آرہا۔ اِن سب خطوط میں آپ کو کہیں نہ کہیں اُس تمنا یا آرزو کا رنگ ضرور دکھائی دے گا جس نے اوّل اوّل آصف سعید کھوسہ کے دِل میں جنم لیا اور جسے ’’گُڈ ٹو سی یُو‘‘ کہہ کر عمر عطا بندیال نے جذبہ واحساس میں گندھے رومانوی کلمے کی شکل دی ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اَب یہ رنگ ’’ہولی‘‘ کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ نہ صرف عدالت کے درودیوار اِس رنگ میں نہا گئے ہیں بلکہ اِس کے چھینٹوں سے شاہراہِ دستور بھی گل رنگ ہو رہی ہے۔
تازہ ترین گُل افشانی کا شاہکار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کے وہ جُملے ہیں جو اُنہوں نے، عمران خان ہی کے حوالے سے ایک مقدمہ اپنی کاز لسٹ سے نکال دیے جانے پر ادا کئے۔ انہوں نے بھری عدالت میں اپنے اضطراب کا اظہار کرتے ہوئے کہا __’’ ایسا کرنے (کاز لسٹ سے مقدمہ نکال دینے) سے پہلے، میری عدالت کی بنیادوں میں بارُود رکھ کر اُڑا دیتے۔‘‘ عمران خان کی مبیّنہ وکیل مشال یوسف زئی نے آتشیں ماحول سے حوصلہ پا کر مٹھی بھر بارُدو پھینکتے ہوئے کہا __ ’’سَر آپ دیکھئیے! ہمارے ساتھ باہر یہ ہورہا ہے تو بانی پی۔ٹی۔آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے ساتھ جیل میں یہ لوگ کیا کرتے ہوں گے؟‘‘ اس پر جج صاحب نے کہاکہ ’’آپ یہ بات کہہ رہی ہیں۔ ہمیں تو اپنے ادارے کی فکر پڑ گئی ہے۔ جو گائیڈڈ میزائل آپ کی طرف جارہا تھا، وہ اب ہماری طرف آ رہا ہے۔‘‘ جج صاحب نے مزید فرمایا__ ’’کیا آپ کرپشن اور اقربا پروری کے دروازے کھول رہے ہیں؟ ریاست نے اگر یہی فیصلہ کرلیا ہے کہ اُس نے جنگ جیتنی ہے تو میرا یہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘ مقام شکر ہے کہ ایسا کہنے کے باوجود وہ منصب قضا پر بیٹھے ہوئے ہیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ کو کسی صدمے یا خلا سے دوچار نہیں ہونا پڑا۔
اِس قضیے کا تعلق بھی ممتاز ومنفرد قیدی، عمران خان سے ہے جنہوں نے جیل میں ملاقاتوں اور سہولتوں کے حوالے سے چھبیس درخواستیں دائر کر، یا کرا رکھی ہیں۔ اِن درخواستوں کے حوالے سے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے چیف جسٹس کے پاس عرضی گذاری کہ ’’مختلف عدالتوں میں، مختلف تاریخوں پر لگے مقدموں سے انتظامی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ مختلف جج صاحبان کے فیصلوں یا ہدایات میں بھی یکسانیت نہیں ہوتی۔ اس لئے استدعا ہے کہ ان چھبیس درخواستوں کو یکجا کرکے کوئی بڑا بینچ سُن لے۔‘‘عمران خان کے وکیل نے اس پر اعتراض نہ کیا چنانچہ قائم مقام چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے اپنی سربراہی میں ایک تین رُکنی لارجر بینچ قائم کرکے تمام درخواستوں کو یکجا کردیا ۔ ان میں مشال یوسفزئی کی وہ درخواست بھی شامل تھی جو جسٹس سردار اعجاز اسحاق سُن رہے تھے۔ جسٹس صاحب نے اس اقدام کو قانون اور عدالتی قواعد وضوابط کے منافی قرار دیتے ہوئے، اُن کی عدالت کی بنیادوں میں بارُود بھرنے کے مترادف قرار دیا۔
مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ جسٹس صاحب کا موقف درست ہے یا سہ رُکنی بینچ کا لیکن اتنا جانتا ہوں کہ جسٹس منیر سے لے کر عہدِ حاضر تک، صاحبانِ عدل نے کب کب کس سنگ دلی کے ساتھ جمہوریت اور پارلیمان کی بنیادوں میں نہ صرف بارُود بھرا بلکہ اس بارُود کو آگ دکھا کر اُن کے ایسے پرخچے اُڑائے کہ وہ برسوں اپنے اجزائے پریشاں سمیٹتے رہ گئے۔ عدلیہ کی بنیادوں میں بارُود بھی خود صاحبانِ عدل نے بھرا جن کے بعض فیصلوں نے آئین وقانون کے ساتھ وہ سلوک کیا جو عید قربان کے موقع پر بے ہنر قصاب، قربانی کے جانوروں سے کرتے ہیں۔
یہ بڑی ہی دِل فگار کہانی ہے__ جو پھر سہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کی بنیادوں میں بار ود اسلام ا باد ہائیکورٹ چیف جسٹس کے ساتھ نے والے ہے کہ ا
پڑھیں:
اسلامی اقدار اور جدید دور
آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔