اوورسیز پاکستانیوں کی سہولت کیلئے نادرا کا بڑا اقدام
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
سٹی 42 : دنیا کے اہم ممالک میں اوورسیز پاکستانیوں کو شناختی دستاویزات سے متعلق خدمات اور سہولتیں فراہم کرنے کیلئے نادرا دفاتر قائم کر دیئے گئے۔
دنیا کے جن ممالک میں پاکستانی شہری خاطرخواہ تعداد میں موجود ہیں انہیں شناختی دستاویزات سے متعلق خدمات فراہم کرنے کے لئے نادرا نے متعلقہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ مل کر وہاں نادرا مراکز یا کاؤنٹر قائم کئے ہیں۔
ناروے کے دارالحکومت اوسلوکے پاکستانی سفارتخانے میں نادرا کاؤنٹر نے کام شروع کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو شناختی دستاویزات سے متعلق تمام خدمات فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ بحرین کے شہرماناما، کینیڈامیں مانٹریال اوروینکوور ، جنوبی افریقہ کےشہرپریٹوریا،اٹلی کے شہر میلان میں نادرا کاؤنٹرز قائم کئے جارہے ہیں۔
اہم ملک نے پاکستانی طلبہ کیلئے مفت تعلیم کےدروازے کھول دیے
کاؤنٹرامریکا میں واشنگٹن، نیویارک، شکاگو،لاس اینجلس، ہوسٹن اور کینیڈامیں ٹورنٹو،آسٹریلیامیں سڈنی،اسپین میں میڈرڈمیں سہولت فراہم کررہے ہیں۔ یونان میں ایتھنز،جرمنی میں برلن،فرانس میں پیرس،ترکی میں استنبول میں نادراکاؤنٹرقائم ہیں ، ملائشیامیں کوالالمپوراورکویت کے پاکستانیوں کو شناختی دستاویزات کی سہولت فراہم کررہے ہیں۔
نادراکی جانب سے سعودی عرب اور برطانیہ میں موبائل رجسٹریشن آپریشنز کا باقاعدگی انعقاد کیا جاتا ہے ، نادرا رجسٹریشن سینٹرز سعودی عرب میں جدہ، ریاض،مدینہ منورہ میں کام کررہے ہیں جبکہ یواےای میں دبئی اورابوظہبی،قطر میں دوحا،برطانیہ میں لندن، مانچسٹر، برمنگھم اور بریڈ فورڈ میں متحرک ہیں۔
لاہور؛ عباس لائنز اور ایلیٹ ٹریننگ سکول کی عمارتیں ڈی سیل
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: شناختی دستاویزات
پڑھیں:
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
کراچی:ایف آئی اے امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن کلیئرنس کے دوران ایک مسافر کمیل عباس کو مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر آف لوڈ کردیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق تفصیلی جانچ کے دوران مسافر کے پاسپورٹ پر مشتبہ جعلی مہریں پائی گئیں۔ مشتبہ مہروں کی تصدیق انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (IBMS) کے ذریعے کی گئی، تاہم متعلقہ آمد و روانگی کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہ ہونے پر مہروں کے جعلی ہونے کا شبہ مزید مضبوط ہو گیا۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران مسافر نے بیان دیا کہ اس نے اپنا پاسپورٹ اپنے دوست نعیم کے حوالے کیا تھا، جو اس وقت ملائیشیا میں مقیم ہے اور مبینہ طور پر اسی شخص نے پاسپورٹ پر جعلی پاکستانی امیگریشن مہریں لگوائیں۔ مسافر نے مذکورہ شخص کے رابطہ نمبرز بھی فراہم کر دیے ہیں۔
مسافر کو پرواز سے آف لوڈ کر کے مقدمہ مزید قانونی کارروائی، جامع تحقیقات اور جعلی امیگریشن مہروں کے استعمال میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی کے لیے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سرکل (AHTC) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔