وفاقی کابینہ نے نیٹ میٹرنگ کی نئی پالیسی کی منظوری مؤخر کردی، مزید مشاورت کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
وفاقی کابینہ نے نیٹ میٹرنگ کی نئی پالیسی کی منظوری مؤخر کرتے ہوئے صارفین پر اضافی ٹیکس کی وصولی روک دی۔ اس سے متعلق مشاورت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مزید رائے لینے کے بعد سفارشات کو کابینہ کو دوبارہ پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں کابینہ اراکین سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں نیٹ میٹرنگ یا گراس میٹرنگ؟ پاور ڈویژن کا مؤقف سامنے آگیا
وفاقی کابینہ نے پاور ڈویژن کی سفارش پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا حجم بجلی صارفین کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دے دی۔
وفاقی کابینہ نے پاور ڈویژن کی سفارش پر سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA) کو بیگاس پر چلنے والے پاور پلانٹس کے ساتھ معاہدوں کو نظرثانی شُدہ شرائط کے مطابق دستخط کرنے کی منظوری دے دی۔
کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر وسل بلوئر پروٹیکشن اینڈ وجیلینس کمیشن ایکٹ 2025 کی اصولی منظوری دے دی۔
وفاقی کابینہ نے ریونیو ڈویژن کی سفارش پر اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کی حدود میں انکم ٹیکس، سروسز پر سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹیز میں مزید ترامیم کی منظوری دے دی۔ یہ ترامیم ریسورس موبلائزیشن اور یوٹیلائزیشن ریفارم پروگرام کے حوالے سے پالیسی ایکشنز کے طور پر کی گئی ہیں۔ اس حوالے سے کچھ ترامیم 2023 اور 2024 میں کی جا چکی ہیں۔
وفاقی کابینہ نے ریونیو ڈویژن کی سفارش پر کل وقتی اساتذہ اور محققین کی آمدنی پر ٹیکس ریبیٹ کی بحالی کے حوالے سے انکم ٹیکس (سیکینڈ امنڈمینٹ) بل 2025 کی منظوری دے دی۔
وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے 11 مارچ 2025 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔
وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 13 مارچ 2025 اور 21 مارچ 2025 کو ہوئے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔
اجلاس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی کے ریویو کے حوالے سے اسٹاف لیول معاہدے اور ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف پاکستان کی معاونت کے لیے 1.
انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ 7 ارب امریکی ڈالرز کا پہلا اسٹاف لیول معاہدے کا ریویو مکمل ہو چکا ہے، ان معاہدوں کے ذریعے آئی ایم ایف نے پاکستانی معیشت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہاکہ آئی ایم ایف نے گزشتہ 18 مہینوں کے دوران میکرو اکنامک استحکام کی بحالی کے حوالے سے پیشرفت، مالی صورتحال کی بہتری اور افراط زر 2015 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آنے اور معیشت میں استحکام پر پاکستان کی تعریف کی ہے، آئی ایم ایف نے معیشت میں اصلاحات اور گورننس میں بہتری کے لیے حکومت پاکستان کے اقدامات اور عزم کو بھی سراہا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔
وزیراعظم نے ان معاہدوں کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب اور حکومت کی معاشی ٹیم کی کارکردگی کی ستائش کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان معاہدوں سے پاکستان کی معیشت کو مستحکم اور اسے طویل مدتی بحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد ملے گی، حکومت ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے کی بہتر کارکردگی اور نجی شعبے کی ترقی جیسے اہم شعبوں کے حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے، پچھلے ایک سال میں مثبت معاشی اعشاریے حکومت کی مثبت پالیسیوں کا مظہر ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کے معاشی استحکام کے لائحہ عمل، مؤثر کارکردگی اور اس حوالے سے پائیدار منصوبہ بندی کے لیے پرعزم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں سولر نیٹ میٹرنگ بجلی کے صارفین سے 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کرنے کے احکامات جاری
شہباز شریف نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ہمیں پاکستان کی نعمت سے نوازا ہمیں مل کر ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے کام کرنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ریونیو ڈویژن سفارشات شہباز شریف نیٹ میٹرنگ پالیسی وزیراعظم پاکستان وفاقی کابینہ وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ریونیو ڈویژن سفارشات شہباز شریف نیٹ میٹرنگ پالیسی وزیراعظم پاکستان وفاقی کابینہ وی نیوز ڈویژن کی سفارش پر وفاقی کابینہ نے کی منظوری دے دی کے حوالے سے آئی ایم ایف پاکستان کی نیٹ میٹرنگ کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے