WE News:
2026-07-24@13:34:51 GMT

عیدالفطر کب ہوگی؟ اسپارکو نے پیشگوئی کردی

اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT

عیدالفطر کب ہوگی؟ اسپارکو نے پیشگوئی کردی

پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے شوال کا چاند نظر آنے کے حوالے سے پیشگوئی کر دی ہے۔

اسپارکو کے جاری بیان کے مطابق فلکیاتی شوال کا چاند 29 مارچ 2025 کو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق شام 3 بج کر 58 منٹ پر تشکیل پائے گا، 30 مارچ کو غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 27 گھنٹے اور بلندی تقریباً 14 ڈگری اور روشنی 2 فیصد ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی تعلیمی اداروں میں عیدالفطر اور موسم بہار کی تعطیلات کا اعلان

اسپارکو کی پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ 30 مارچ 2025 کو پاکستان میں چاند کے نظر آنے کا امکان نہایت روشن ہے، لہذا روزے 29 ہونے اور عید الفطر کا پہلا دن 31 مارچ 2025 کو ہونے کا امکان ہے۔

حتمی اعلان رویت ہلال کمیٹی کرے گی

سرکاری بیان میں کہا گیاہے کہ عید الفطر کے موقع پر چاند کی رویت کا فیصلہ رویت ہلال کمیٹی کی ذمے داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عیدالفطر کے موقع پر خصوصی ٹرینیں چلانے کا اعلان

ترجمان سپارکو کے مطابق اگرچہ سائنسی ڈیٹا 30 مارچ 2025 کو ہلال کے نظر آنے کی مضبوط تائید کرتا ہے لیکن مرکزی رویت کمیٹی کا حتمی فیصلہ چشم دید گواہیوں اور مشاہدے کے وقت مقامی موسمی حالات پر منحصر ہوگا۔

سعودی عرب میں عیدالفطر

دوسری جانب سعودی عرب میں 29 مارچ 2025 کو چاند کے نظر آنے کے امکانات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں کیوں کہ مکہ میں غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 5 گھنٹے ہوگی، اس بنا پر سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ میں ہلال 30 مارچ 2025 کو نظر آئے گا اور وہاں بھی عید الفطر 31 مارچ 2025 کو منائی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسپارکو پاکستان چاند رمضان سعودی عرب عیدالفطر مشرق وسطیٰ ہلال.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسپارکو پاکستان چاند عیدالفطر ہلال مارچ 2025 کو

پڑھیں:

غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔

اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

غذائی قلت غزہ فلسطین

متعلقہ مضامین

  • چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کا پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس ہیڈکوارٹر کا دورہ، منشیات کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق
  • آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
  • آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
  • وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے، کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی