ملتان، ہمدرد ہائوس کے بچوں کے اعزاز میں سی پی او ملتان کی جانب سے افطار کا اہتمام
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر نے اس موقع پر کہا کہ پولیس ایسے فلاحی اقدامات کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور یتیم و مستحق بچوں کی مدد کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔ افطار کے بعد خصوصی دعا کی گئی اور بچوں میں تحائف بھی تقسیم کیے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر اور پاکستان یوتھ پارلیمنٹ کے اشتراک سے پولیس لائنز ملتان میں ہمدرد ہائوس کے بچوں کے لیے خصوصی افطار کا اہتمام کیا گیا۔ پاکستان یوتھ پارلیمنٹ کے صدر ابوبکر، نعمان، ملک وقار کھوکھر، حفظہ ہیڈ آف مینجمنٹ، جواد رضا جعفری، شعیب جعفری، احسن مہدی، حسن خان گھلو، مزمل عباس بھٹہ اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی، افطار میں ایس ایس پی آپریشنز ملتان کامران عامر خان، ایس پی گلگشت سیف اللہ گجر، ایس پی صدر شمس الدین اور ایس پی کینٹ کائنات اظہر نے شرکت کی۔ پاکستان یوتھ پارلیمنٹ کے نمائندگان نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد مستحق بچوں اور اداروں کے درمیان مثبت اور مضبوط تعلق قائم کرنا ہے تاکہ انہیں معاشرے میں بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر نے اس موقع پر کہا کہ پولیس ایسے فلاحی اقدامات کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور یتیم و مستحق بچوں کی مدد کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔ افطار کے بعد خصوصی دعا کی گئی اور بچوں میں تحائف بھی تقسیم کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سی پی او ملتان ایس پی
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔