بھارت میں سڑکوں پر عید کی نماز پڑھنے پر پابندی کا معاملہ، اپوزیشن کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ہم نے ایسی تصاویر دیکھی ہیں جن میں نماز پڑھنے والے شخص کو پولیس اہلکار نے بوٹ سے ٹھوکر ماری، ہمارے ملک میں ہر مذہب کا احترام ہونا چاہیئے۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی سے اترپردیش تک سڑک پر نماز پڑھنے کے معاملے پر سیاسی بیان بازی تیز ہوگئی ہے۔ اترپردیش کے سنبھل میں انتظامیہ کے ذریعے سڑک پر نماز پڑھنے پر پابندی عائد کرنے پر اپوزیشن نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے سنبھل انتظامیہ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا نظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو شرم آنی چاہیئے کہ وہ آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ آنند بھدوریا نے بھی اترپردیش کی یوگی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش میں مہنگائی، بے روزگاری، خواتین پر مظالم اور کسانوں کی پریشانی جیسے بڑے مسائل ہیں، ان سے توجہ ہٹانے کے لئے بی جے پی کی حکومت ہندو مسلم کے موضوعات کو ہوا دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2027ء کے انتخابات قریب آتے ہی ایسے بیانات میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے ایسی تصاویر دیکھی ہیں جن میں نماز پڑھنے والے شخص کو پولیس اہلکار نے بوٹ سے ٹھوکر ماری، ہمارے ملک میں ہر مذہب کا احترام ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سڑک پر نماز پڑھنا نہیں چاہتا لیکن اگر حکومت مناسب جگہ فراہم کرے تو نماز باجماعت آسانی سے ادا کی جا سکتی ہے۔ ادھر دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی کرنائل سنگھ نے دہلی پولیس کمشنر کو خط لکھ کر سڑک پر نماز پڑھنے پر اعتراض کیا ہے۔ خیال رہے کہ سنبھل انتظامیہ نے سڑک یا چھت پر نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے علاوہ دہلی کی شکور بستی سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی کرنیل سنگھ نے بدھ کے روز دہلی پولیس کمشنر سنجے اروڑا کو خط لکھ کر سڑک پر نماز پڑھنے پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پر نماز پڑھنے پر انہوں نے کہا کہ کے رکن
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔