پاکستان اور ازبکستان کا آئی ٹی اور ٹیلی کام میں جوائنٹ ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 28th, March 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان سائبر سیکیورٹی میں مستحکم صلاحیت رکھتا ہے اور بہتر کنیکٹیویٹی سے وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے کم تاخیر کی سہولت میں بہتری ممکن ہوگی۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن سے جاری بیان کے مطابق پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ڈیجیٹل شراکت داری کو وسعت دینے پر بات چیت کی گئی جہاں ازبک سفیر علیشیر تختایو نے وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ سے ملاقات کی۔
وفاقی وزیر آئی ٹی نے کہا کہ پاکستان سائبر سیکیورٹی میں مستحکم صلاحیت رکھتا ہے، ہمارے پاس این سی ای آر ٹی اور این ٹی آئی ایس بی جیسے ادارے موجود ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تمام ڈیجیٹل خدمات کے لیے ون ونڈو سسٹم کے قیام اور شراکت داری، ٹیکنالوجی منصوبوں کے لیے وینچر کیپیٹلز کے قیام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فریقین نے نوجوانوں خصوصاً خواتین کے لیے ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ پروگرامز کے انعقاد پر غور کیا، تعلیمی تعاون، بشمول مشترکہ اور تبادلہ پروگرامز کے فروغ کی تجویز دی گئی۔
وفاقی وزیر اور ازبک سفیر کے درمیان ملاقات میں انکیوبیشن سینٹرز اور سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں شراکت داری پر اتفاق کیا گیا۔
ازبک سفیر نے آئی ٹی اور ٹیلی کام وزرا کے باہمی دوروں کی ضرورت پر زوردیا، ملاقات میں نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون کے معاہدے پر دستخط کی تجویزدی گئی اور آئی ٹی اور ٹیلی کام کے شعبے میں جوائنٹ ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔
وزارتِ آئی ٹی نے ازبکستان کے ساتھ تعاون کے لیے ایکشن پلان وزارت خارجہ کے ذریعے شیئر کر دیا، وفاقی وزیر آئی ٹی نے ازبک سفیر کی تجاویز سے اتفاق کیا اور انہوں نے دوطرفہ آئی ٹی اور ٹیلی کام تعاون کو مواقع سے بھرپور قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر آئی ٹی نےوسطی ایشیا کے لیے واخان کوریڈور اور چین (ڈیجیٹل سلک روڈ) کے ذریعے او ایف سی کنیکٹیویٹی کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ بہتر کنیکٹیویٹی سے وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے کم تاخیر (لو لیٹینسی) کی سہولت میں بہتری ممکن ہوگی۔
ملاقات میں پاکستان میں موجود 8 قومی انکیوبیشن سینٹرز میں دوطرفہ اسٹارٹ اپ تعاون کے امکانات پر گفتگو کی گئی۔
ازبک سفیرنے کہا کہ ازبکستان وسطی ایشیا کا مرکز ہے جہاں 18 ملین کی آبادی ہے، ازبک سفیر نے دوطرفہ اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے قیام کی تجویز دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی ٹی اور ٹیلی کام وفاقی وزیر آئی ٹی ملاقات میں ازبک سفیر آئی ٹی نے اور ازبک کے قیام کے لیے
پڑھیں:
مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟
آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔
واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟
پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔
آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔
سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں