پچھلے ہفتے بہت سی باتیں ہوئیں اور سب ہی  سنانے کو جی چاہتا ہے۔

امریکا جو ہمارا محبوب بھی ہے اور دشمن جاں بھی، جہاں پہنچنے کو ہر کسی کا جی چاہتا ہے مگر گالی بھی اسی کو دی جاتی ہے۔ عجیب محبت و نفرت کا رشتہ ہے۔۔۔

25،30 برس پہلے پاکستانی عوام ان ممالک میں شامل تھے جو ویزالاٹری میں درخواست ڈال سکتے تھے۔ سچ پوچھیے تو لاٹری وغیرہ پر یقین کچھ کم ہی تھا کہ ہمارا کبھی 4 پیسے کا انعام نہیں نکلا کجا امریکی ویزا اس لیے درخواست ڈالنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی۔ لیکن ہم چونکے اس دن جب صاحب کے کزن نے بوریا بستر لپیٹا یہ کہتے ہوئے کہ لاٹری میں نام آ گیا ہے۔

بہت لوگ امریکا گئے، وہاں آباد ہوئے مگر امریکا جانے کا مطلب یہ نہیں تھا  کہ اپنی اولاد کو امریکی بننے کی چھوٹ دے دی جائے، خاص طور پہ بیٹیوں کو۔۔۔ بھلے وہ امریکی اسکول جائیں، امریکی بچوں کے ساتھ پڑھیں، دن رات اس کلچر میں رہیں مگر صاحب ان کا رہن سہن طور طریقہ اماں ابا کے آبائی وطن جیسا ہی ہونا چاہیے۔ اماں ابا کیوں پرواہ کریں کہ اسکولز میں ساتھی بچے ان کا مذاق اڑاتے ہیں، 21ویں صدی میں رہتے ہوئے پچھلی صدی میں زندگی بسر کرنے کی جستجو، پاگل پن ہی تو ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تھیلی وقت سے پہلے کیوں پھٹ گئی؟

ہم میں سے بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ ٹین ایج سے گزرتا بچہ طبعی طور پہ اپنے ہوش وحواس میں نہیں ہوتا ۔۔۔ نہ وہ بچہ ہے اور نہ بڑا ۔۔۔ بیچ میں کہیں جھولتا ہوا، تبدیلی کے پل سے گزرتا بچہ کس قدر خوفزدہ اور شکوک وشبہات کا شکار ہے، یہ کوئی نہیں جان پاتا۔ اور اگر یہ بچہ ایشیائی ہو تو مرے پہ سو درے ۔۔۔ ایشیائی ماں باپ کی خونخوار نظریں، دن رات کی نصیحتیں، بچوں کو بدیس سے واپس دیس لے جانے کی ترکیبیں، جلد از جلد نکاح پڑھوانے کے منصوبے تاکہ ان کی لڑکی کہیں ویسی امریکی نہ بن جائے جنہیں دیکھ کر وہ لاحول پڑھتے ہیں ۔۔۔ ناسمجھ لوگ، پودا بدیسی زمین میں لگا کر چاہتے ہیں کہ پھل دیسی آئے۔ ایک اور ستم ظریفی یہ کہ بیٹوں کی طرف سے آنکھ بند کر لی جاتی ہے کہ غیرت وغیرہ کا مسئلہ نہیں ہوتا مگر بیٹیوں کی طرف سے چوکنی آنکھیں مزید کھول لی جاتی ہیں کہ کہیں کوئی پرندہ بھی نہ پر مارے۔

یہ تمہید کیوں باندھی گئی ہے وہ تو ہم بعد میں بتائیں گے پہلے یہ سن لیں کہ پچھلے ہفتے نیٹ فلیکس پر adolescence نامی ڈرامہ ریلیز ہوا جس نے سب والدین کے پاؤں نیچے سے زمین نکال دی۔

13 سالہ بچہ اپنی ہی عمر کی کلاس فیلو لڑکی کو قتل کردیتا ہے۔  وجہ ٹین ایج بچوں میں رونما ہونے والی جنسی تبدیلیاں، خود کو نااہل سمجھنے کی غلط فہمی، ساتھی بچوں کی طرف سے تضحیک، تحقیر اور مذاق، سوشل میڈیا ایپس اور استعمال ہونے والے وہ اشارے اور زبان ہیں جو میں اور آپ سمجھ ہی نہیں سکتے۔ جب سمجھ نہیں سکتے تو بچوں کو سمجھا کیا سکتے ہیں؟

مزید پڑھیے: نومولود کو دھاتی چمچ پسند نہیں!

قتل کی تحقیق کرنے والے پولیس آفیسر کو جب قتل کرنے کی وجہ ڈھونڈنے میں ناکامی ہوتی ہے تو اس کی  مدد کرنے کے لیے اسی کا ٹین ایجر بیٹا سامنے آتا ہے جو باپ کو اِدھر اُدھر سر پٹختے دیکھ کر جان چکا ہے کہ ہماری دنیا کی بات باپ کی سمجھ میں آنے والی نہیں خواہ وہ Detective ہی کیوں نہ ہو۔

سوچییے برطانوی پولیس آفیسر ان اشاروں کی زبان نہیں سمجھتا تو ہم اور آپ کس کھیت کی مولی ہیں؟

21ویں صدی کے اس دور میں سوشل میڈیا، انٹرنیٹ اور مختلف gadgets  نے پوری دنیا کی نئی نسل کو آپس میں جوڑ تو دیا ہی ہے لیکن وہ ایک نئی دنیا میں بھی داخل ہو گئے ہیں جس کے متعلق والدین کچھ نہیں جانتے۔ کسی سے بھی کچھ چھپا ہوا نہیں اور کوئی بھی کچھ بھی دیکھ سکتا ہے۔ مختلف گھروں / کلچر / معاشروں سے تعلق رکھنے والے بچوں کے لیے تو یہ اور بھی مشکل ہے کہ گھر کے بڑوں کا پریشر بھی برداشت کریں اور باہر کے ساتھیوں کی طعن و تشنیع بھی۔

لمحہ فکریہ ہے لیکن کیا کیا جائے؟ جدید دنیا کے آندھی کی مانند بدلتے تقاضوں سے بچے تو بوکھلائے ہوئے ہیں ہی، ساتھ میں جاہل والدین نے زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔  لیکن کیا اس کا حل یہ ہے کہ بچوں کو موت کے گھاٹ اتار کر سمجھا جائے ہم پُگ گئے اور عزت بچ گئی۔ ایسا کرنے والے کو احمقوں کی جنت کا باسی ہی سمجھا جا سکتا ہے۔

لیکن کیا کریں وطن عزیز سے اٹھ کر ایسے بے شمار احمقان دنیا بھر میں اپنی جنت بنا چکے ہیں جنہیں رہائش کے لیے تو جدید دنیا چاہیے مگر لوازمات پچھلی صدی والے، جس میں بیٹی کو نکیل ڈال کر بھیڑ بکری کی طرح ہانکا جاتا تھا۔ وقت پہ چارہ، ادھر ادھر جانے کی پاداش میں ہاتھ میں پکڑی سوٹی کا بے دریغ استعمال  اور ضرورت پڑنے پر قربانی۔

لیکن ہوا کا رخ بدلنے کے ساتھ ساتھ جدید دنیا کی بچی کو علم ہے کہ وہ دوسرے درجے کی شہری نہیں۔ جتنی ڈھیل اس کے بھائی کو دی جاتی ہے وہ بھی اسی کی مستحق ہے۔

آغاز میں ہم نے جو تمہید باندھی تھی، اس کی طرف آتے ہیں۔

نیویارک میں پیدا ہونے والی پاکستانی ماں باپ کی 14 سالہ بیٹی پاکستان واپس لا کر قتل کر دی جاتی ہے۔ 25 برس پہلے پاکستانی باپ امریکی لاٹری کے ذریعے امریکا پہنچا، ٹیکسی ڈرائیونگ سے روزی کمائی، 3 بیٹیوں کا باپ بنا اور پھر یاد آ گیا کہ اس کی خاندانی روایات کے مطابق لڑکیوں کو اس قدر ڈھیل نہیں دی جا سکتی۔

بیٹی کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ ابا کو پسند نہیں آیا، بیٹی اکاؤنٹ بند کرنے پر راضی نہیں ہوئی سو اس کا حل یہ نکالا گیا کہ اس بچی کو اگلی دنیا روانہ کر دیا جائے۔ زمینی خداؤں کی غیرت کے بھی کئی تقاضے ہوتے ہیں جن میں سب سے اہم بیٹیوں اور بہنوں کو موت کے حوالے کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: بچے کا سر بے ڈھب کیوں ہے؟

نیویارک میں رہتے ہوئے تو یہ ممکن نہیں سو بچی کو پاکستان گھمانے کے بہانے لایا جاتا ہے گھومنا پھرنا، شاپنگ کروانا ۔۔۔ بچی بے انتہا خوش نظر آتی ہے اور اس تفریح کی تصویریں و وڈیوز اپنے امریکی دوستوں کو بھیج کر بتاتی ہے کہ وہ کس قدر خوش ہے۔

غالباً ابا بیٹی کو قربان کرنے سے پہلے دنیا / خاندان کو یہ امپریشن دینا چاہتا تھا کہ اسے بیٹی سے کس قدر محبت ہے۔ اس مصنوعی محبت کے ساتھ ساتھ وہ بچی کے ماموں سے مل کر بچی کو قتل کرنے کا منصوبہ بناتا ہے۔

سنگدلی کی انتہا دیکھیے کہ دو مرد، باپ اور ماموں، 14 برس کی بچی کو قتل کرنے کے منصوبے تیار کر رہے ہیں اور بچی باپ اور ماموں کے ساتھ خوشی اور اعتماد سے دن گزار رہی ہے۔

آخر ڈکیتی کا رنگ دیتے ہوئے بچی کو دن دہاڑے گولی مار دی جاتی ہے اور بچی باپ کو پکارتے پکارتے مر جاتی ہے یہ جانے بغیر کہ وہی اس کا قاتل ہے۔

یہ بھی پڑھیے: میرا یہ حال کیوں ہوا؟ 

نیویارک ٹائمز نے حرا کی کہانی سیاق و سباق کے ساتھ لکھی ہے۔ اور ایک ایسے وقت میں جب پاکستانیوں کو امریکی ویزا دینے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ حرا کے متعلق سوچتے ہوئے ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ شاید ایسا کرنا ٹھیک ہی ہے۔

اگر والدین بیٹیوں کو غاروں کے زمانے میں رہ کر پروان چڑھانا چاہتے ہیں تو پھر امریکا جانے کی کیا ضرورت ؟ دیس ہی بھلا، جہاں جب چاہیں خود گردن اتاریں، جب چاہیں کسی اور ظالم کے حوالے کرکے مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے اپنی غیرت کے قصے سنائیں چاہے غیرت کی بنیادوں میں بے شمار عورتوں کا لہو ہی کیوں نہ ہو۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

14 سالہ حرا کا قتل امریکا میں پاکستانی لڑکیاں امریکی لڑکی کا پاکستان میں قتل پاکستانی نژاد امریکی لڑکی کوئٹہ میں باپ کے ہاتھوں بیٹی قتل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 14 سالہ حرا کا قتل دی جاتی ہے کے ساتھ ہے اور بچی کو قتل کر کی طرف کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ