علی امین گنڈا پور کی مولانا فضل الرحمان کے خلاف ہرزہ سرائی پر جے یو آئی کا شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 28th, March 2025 GMT
علی امین گنڈا پور کی مولانا فضل الرحمان کے خلاف ہرزہ سرائی پر جے یو آئی کا شدید ردعمل WhatsAppFacebookTwitter 0 28 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی امین گنڈا پور کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے خلاف ہرزہ سرائی پر جے یو آئی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جے یو آئی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور عمران خان کی واضح ہدایات کے باوجود مولانا فضل الرحمان کے خلاف ناپسندیدہ زبان استعمال کر رہے ہیں۔
جے یو آئی کے رہنما اسلم غوری نے کہا کہ تحریک انصاف اور جے یو آئی کے درمیان فاصلوں کو بڑھانے کی سازش کی جا رہی ہے، جس کا فائدہ حکومت اور غیر جمہوری قوتوں کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈا پور تحریک انصاف کے “گوربا چوف” ہیں، اور پی ٹی آئی کو بیرونی نہیں بلکہ اندرونی سازشوں سے خطرہ ہے۔
سازشوں کا انکشاف:
اسلم غوری نے مزید کہا کہ جب اپوزیشن اتحاد بننے کے قریب ہوتا ہے، سازشی عناصر اپنی سرگرمیاں شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ علی امین گنڈا پور اپوزیشن اتحاد سے خوفزدہ ہیں اور اپنی حکومت کو دوام دینے کے لیے اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
علماء کے بارے میں بیان:
جے یو آئی کے ترجمان نے علی امین گنڈا پور کے علماء کرام کے بارے میں توہین آمیز بیان کی شدید مذمت کی اور کہا کہ علماء کرام انبیاء کے وارث ہیں، ان کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اسلم غوری نے پی ٹی آئی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ وضاحت کرے کہ علی امین کا یہ بیان پارٹی پالیسی کے مطابق تھا یا نہیں۔
گرینڈ اپوزیشن الائنس کی اہمیت:
اسلم غوری نے کہا کہ اپوزیشن کا گرینڈ الائنس کسی بھی صورت ہماری کمزوری نہیں بنے گا، اور اس میں رکاوٹ ڈالنے والے سازشی عناصر کا مقصد غیر جمہوری قوتوں کے مفادات کو سہولت دینا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان کے خلاف علی امین گنڈا پور جے یو ا ئی
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔