عمران خان نے ریڈ کارپٹ بچھا کر 4 ہزار دہشتگردوں کو ملک میں بسایا، طلال چوہدری WhatsAppFacebookTwitter 0 28 March, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز )وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان سے ریڈ کارپٹ بچھا کر اور بارڈر کھول کر عمران خان نے 4 ہزار دہشت گردوں کو پاکستان اور خیبرپختونخوا میں بسایا، سی ٹی ڈی کہاں ہے، خیبرپختونخوا پولیس کو نہ بجٹ دیتے ہیں اور نہ ان کی ٹریننگ کراتے ہیں، دہشت گردوں کی ذہن سازی اور انہیں اسلحہ ہمارے شہروں سے ہی فراہم کیا جارہا ہے، وزیرعلی دوسروں کو طعنہ دیتے ہیں وہ پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں۔

فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ آج کچھ حقائق سامنے رکھنا چاہتا ہوں، پاکستان اور افغانستان کا بارڈر 2600 کلو میٹر تک ملا ہوا ہے، سرحدی کوئی ہموار زمین پر نہیں بلکہ کہیں پہاڑ اور کہیں وادیاں ہیں، اس کے باوجود اس پر فینس اس کا کام 92 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ بارڈر پر 1400 چوکیاں قائم ہیں، جس پر پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار موجود ہیں، بارڈر کی حفاظت کی ذمہ داری دو ملکوں کی ہوتی ہے اور اگر ایک ملک کرے اور دوسرا نہ کرے تو پھر 2600 کلو میٹر کے اس بارڈر کی حفاظت اور ذمہ داری پوری کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس ریسورسز اتنے نہیں ہیں، جتنے امریکا کے پاس ہیں، امریکا کا جو بارڈر میکسکو کے ساتھ ہے، امریکا اس بارڈر کو آج کے دن تک محفوظ بنانے کے لیے پوری کوشش کرتے ہیں، لیکن نہیں بناسکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بات بارڈر کی فینس کی نہیں ہے، فینس موجود ہے، چوکیاں موجود ہیں مگر وزیر اعلی خیبر پختونخوا کا یہ کہنا کہ وہاں سے لوگ آ جاتے ہیں، وہاں سے لوگ آئے نہیں ہیں، وہاں سے ریڈ کارپٹ بچھا کر اور بارڈر کھول کر عمران خان نے 4 ہزار دہشت گردوں کو پاکستان اور خیبرپختونخوا میں بسایا ہے، علی امین گنڈا پور فرض نبھانے کے بجائے بہانے بنارہے ہیں، محدود وسائل کے باوجود سرحد محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ بارڈر فینس نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گردی نہیں ہے، اپنا گریبان جھانکیں، سی ٹی ڈی کمزور ہونے کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی ہوتی ہے، کس دہشت گردوں سے ہماری لڑائی ہے، ہماری جنگ ان لوگوں سے ہے، جن سے مسجدیں محفوظ ہیں اور نہ نمازیں، جنہوں نے نہ رمضان شریف کا کوئی احترام کیا ہے، نہ نہتے عورتوں اور بچوں کا کوئی احترام کرتے ہیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے مزید کہا کہ یہ کونسا جہاد ہے کہ رمضان شریف ہو، نمازی نماز پڑھ رہے ہوں اور حملہ آور ہونے والے کہیں کہ وہ جہاد کر رہے ہیں، یہ جہاد نہیں دہشتگردی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی جنگ ہے، یہ ان لوگوں کے ساتھ جنگ ہے، جو اتنے بے رحم ہیں کہ نہ نہتے عورتیں اور بچوں کو چھوڑتے ہیں اور نہ وہ رمضان اور مسجد کا کوئی خیال کرتے ہیں۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جو بیانیہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس میں حساس اداروں کی ناکامی ہے، بارڈر صحیح طرح ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے، ذرا اس سے آگے بھی آ جائیں، صحت، تعلیم، امن و امان اور بہترین گورننس کس کا فرض بنتا ہے؟ کس نے ادارے بنانے تھے؟ کس نے امن و امان کے لیے بہترین فورس کو کھڑا کرنا تھا؟

وزیر مملکت برائے داخلہ نے مزید کہا کہ یہ جنگ ہم جیت رہے ہیں، دہشت گرد روز مارے جاتے ہیں، وہ سافٹ ٹارگٹ پر حملہ کرتے ہیں، ہماری حکومتوں کی کمی، کوتاہیوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں، اگر صوبائی حکومت نے سیف سٹی کیمرے لگائے ہوتے، اگر حکومت خیبرپختونخوا نے سی ٹی ڈی کا بہترین محکمہ بنایا ہوتا، تو سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا کہ دہشتگردی پنجاب اور سندھ کی طرح وہاں بھی ختم نہ ہوتی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب یا مسلک نہیں، رمضان میں حملے کرنا جہاد نہیں، دہشت گردی ہے، بے گناہوں پر حملہ کرنے والوں سے ہمدردی کی جاتی ہے، پی ٹی آئی 10 سے 12 سال سے دہشت گردوں سے نہیں لڑرہی، دہشت گردوں نے کبھی پی ٹی آئی کے رہنماں پر حملہ نہیں کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری میں بسایا کرتے ہیں گردوں کو کا کوئی تھا کہ کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور سہولت کار بھی پکڑے گئے

---فائل فوٹو 

بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 4 دہشت گرد ہلاک کر دیے۔

سیکیورٹی کے ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور ان کے زیرِ استعمال موٹرسائیکلیں بھی قبضے میں لے لی گئیں۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن میں تنظیم کے متعدد دہشت گرد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار

علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے، دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔

سیکیورٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث متعدد مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ مزید ممکنہ خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

دوسری جانب وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قربانیوں کو سراہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹانک میں دہشت گردوں کا چیک پوسٹ پر حملہ، 12 خوارج ہلاک، 15 جوان شہید
  • فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کا ناپاک گٹھ جوڑ وطن عزیز کا امن تباہ نہیں کر سکتا: محسن نقوی
  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور سہولت کار بھی پکڑے گئے
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک