لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مارچ2025ء)حکومت کا رمضان المبارک کے آخری ہفتے میں مہنگائی کم ہو جانے کا دعوٰی، مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعووں کے باوجود عید سے قبل ایل پی جی، گوشت، دالوں، سبزیوں سمیت 10 اشیاء مزید مہنگی ہو گئیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں مسلسل دوسرے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں اضافے کی رفتار 0.

15 فی صد کم ہوئی ہے جبکہ ملک میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی شرح منفی 1.26فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات نے ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ ایک ہفتے میں 10 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 10 اشیا کی قیمتوں میں کمی جب کہ 31اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

(جاری ہے)

ایک ہفتے میں پرنٹڈ لان کی قیمت میں 0.62فیصد، ایل پی جی کی قیمتوں میں1.17 فیصد، لانگ کلاتھ کی قیمتوں میں0.29 فیصد، گڑکی قیمتوں میں0.51 فیصد، ٹماٹر کی قیمتوں میں9.62 فیصد، بیف کی قیمتوں میں 0.30فیصد،سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں0.13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح ویجی ٹیبل گھی کی قیمتوں میں0.10 فیصد،دال ماش کی قیمتوں میں0.56 فیصد اوردال مسور کی قیمتوں میں0.20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔علاوہ ازیں آلو کی قیمتوں میں1.47 فیصد،پیاز کی قیمتوں میں4.68 فیصد، لہسن کی قیمتوں میں2.23فیصد، انڈوں کی قیمتوں میں3.87فیصد، دال چنا کی قیمتوں میں0.67 فیصد، چکن کی قیمتوں میں1.29 فیصد،چینی کی قیمتوں میں0.94 فیصد اورکیلوں کی قیمتوں میں4.27 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی شرح0.21فیصدکمی کے ساتھ منفی1.77 فیصد رہی۔اسی طرح 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی شرح 0.20فیصدکمی کے ساتھ منفی1.98فیصد، 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی شرح0.16فیصدکمی کے ساتھ منفی1.69فیصد کمی واقع ہوئی البتہ 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی شرح0.16فیصدکمی کے ساتھ منفی 1.17فیصد رہی جبکہ 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی شرح0.13فیصدکمی کے ساتھ منفی 0.59فیصدرہی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری

کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔

بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس

کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔

حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔

سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ

سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:

گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے

معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔

اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔

دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
  • ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ مہنگی، 8 سستی ہوئیں، رپورٹ
  • سرکاری ملازمتوں کا شاندار موقع! ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک
  • دو ہفتے کے دوران پٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر متاثر, بس اڈے پر مسافروں میں نمایاں کمی
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری