کراچی میں 1200 فٹ کھدائی کے دوران آگ بھڑکنے کی اصل وجہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT
کراچی کے علاقے کورنگی کریک کے قریب لگنے والی آگ پر 7 گھنٹے بعد بھی قابو نہیں پایا جاسکا۔ فائر بریگیڈ حکام کے مطابق موقع پر 10 سے زائد فائر ٹینڈر موجود ہیں، فائر بریگیڈ کو پانی کی فراہمی کے لیے واٹر ٹینکر بھی موجود ہیں، آگ بجھانے کی حکمت عملی کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ ہیوی مشینری اور ڈمپر کی مدد سے آگ کے قریب مٹی ڈالی جارہی ہے، 1200 فٹ کی کھدائی کے دوران آگ بھڑک اٹھی تھی۔
مزید پڑھیں: کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
کمشنر کراچی سید علی حسن کا کہنا ہے کہ اتنی گہری بورنگ کا اجازت نامہ اگر موجود ہے تو اس کی تصدیق کرائیں گے، کس ادارے نے اتنی گہری بورنگ کی اجازت دی اس کی بھی تحقیقات کریں گے؟ ایسا لگتا ہے یہاں پر گیس موجود ہے، رات جس طرز کی آگ تھی تاحال وہی صورتحال ہے، یہاں کس چیز کے لیے بورنگ کی جارہی تھی، معلومات اکٹھا کررہے ہیں۔
ترجمان سوئی سدرن کے مطابق کورنگی کراسنگ کےقریب سوئی سدرن کی کوئی تنصیبات نہیں،آگ کی جگہ کے اطراف میں سوئی سدرن کی کوئی پائپ لائن بھی نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آگ فائر بریگیڈ کراچی کمشنر کراچی سید علی حسن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فائر بریگیڈ کراچی کمشنر کراچی سید علی حسن
پڑھیں:
کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
فائل فوٹوکراچی کے علاقے احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش ملی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کی موت بظاہر طبعی لگتی ہے، مزید تحقیقات کر رہے ہیں، :لڑکی کی رات گئے طبعیت خراب ہوئی تھی، انسٹیٹیوٹ میں اسپتال بھی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ کے ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی۔