Express News:
2026-07-24@13:30:28 GMT

فٹبال پریزینٹر کے نامناسب لباس نے نئی بحث چھیڑ دی

اشاعت کی تاریخ: 30th, March 2025 GMT

معروف ٹی وی پریزینٹر ایلینورا انکارڈونا کے نامناسب لباس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیزن اسپورٹس چینل کی پریزینٹر ایلینورا انکارڈونا کو 'ٹرانس پیرنٹ' متنازع لباس پہننے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

واقعہ یووینٹس اور انٹر کے درمیان میچ کے دوران پیش آیا، جب پریزینٹر نے میچ کی میزبانی کرتے ہوئے ایک ٹرانس پیرنٹ نامناسب لباس کا انتخاب کیا۔

مزید پڑھیں: ورلڈکپ کوالیفائرز؛ برازیل کی بدترین کارکردگی پر ہیڈکوچ فارغ

سوشل میڈیا پر 10 لاکھ سے زائد فالوورز رکھنے والی ایلینورا انکارڈونا کی تصاویر پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ کچھ صارفین نے انہیں 'نئی ڈیلیٹا لیوٹا' کا خطاب دیا۔

مزید پڑھیں: تاریخ رقم، جاپان فیفا ورلڈکپ کیلئے کوالیفائی کرنے والا پہلا ملک بن گیا

ایک صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ "یہ لباس اسپورٹس براڈکاسٹنگ کے معیارات کے منافی ہے"۔

اسی طرح ایک اور صارف نے انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ "کھیل کی بجائے پریزینٹر کے لباس پر توجہ مرکوز ہو رہی ہے"۔

دوسرے صارف نے ردعمل دیا کہ "یہ ایک اسپورٹس شو ہے، فیشن شو نہیں!"۔

واضح رہے کہ ایلینورا انکارڈونا نے ابھی تک اس تنقید پر کوئی رسمی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد