فٹبال پریزینٹر کے نامناسب لباس نے نئی بحث چھیڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 30th, March 2025 GMT
معروف ٹی وی پریزینٹر ایلینورا انکارڈونا کے نامناسب لباس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیزن اسپورٹس چینل کی پریزینٹر ایلینورا انکارڈونا کو 'ٹرانس پیرنٹ' متنازع لباس پہننے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
واقعہ یووینٹس اور انٹر کے درمیان میچ کے دوران پیش آیا، جب پریزینٹر نے میچ کی میزبانی کرتے ہوئے ایک ٹرانس پیرنٹ نامناسب لباس کا انتخاب کیا۔
مزید پڑھیں: ورلڈکپ کوالیفائرز؛ برازیل کی بدترین کارکردگی پر ہیڈکوچ فارغ
سوشل میڈیا پر 10 لاکھ سے زائد فالوورز رکھنے والی ایلینورا انکارڈونا کی تصاویر پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ کچھ صارفین نے انہیں 'نئی ڈیلیٹا لیوٹا' کا خطاب دیا۔
مزید پڑھیں: تاریخ رقم، جاپان فیفا ورلڈکپ کیلئے کوالیفائی کرنے والا پہلا ملک بن گیا
ایک صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ "یہ لباس اسپورٹس براڈکاسٹنگ کے معیارات کے منافی ہے"۔
اسی طرح ایک اور صارف نے انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ "کھیل کی بجائے پریزینٹر کے لباس پر توجہ مرکوز ہو رہی ہے"۔
دوسرے صارف نے ردعمل دیا کہ "یہ ایک اسپورٹس شو ہے، فیشن شو نہیں!"۔
واضح رہے کہ ایلینورا انکارڈونا نے ابھی تک اس تنقید پر کوئی رسمی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ