افغانستان میں طالبان حکومت نے عید الفطر پر ہزاروں قیدی رہا کردیے
اشاعت کی تاریخ: 30th, March 2025 GMT
کابل:افغان سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ طالبان حکومت نے عید سے قبل 2463 قیدیوں کو رہا کیا ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے ایکس پر کہا کہ طالبان سپریم لیڈر کے حکم نامے کے مطابق ’ معافی کے اہل 2463 قیدیوں کو رہا کر دیا گیا جبکہ 3،152 دیگر کو سزا میں کمی کی گئی‘۔
اگرچہ افغانستان میں مختلف سیکورٹی اداروں کے زیر حراست قیدیوں کی صحیح تعداد واضح نہیں ہے ، لیکن اقوام متحدہ نے ملک میں جیلوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔
جیل انتظامیہ کے دفتر کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ 11،000 سے 12،000 کے درمیان سزا یافتہ قیدی اتھارٹی کی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تقریبا اتنی ہی تعداد زیر حراست ہے اور مقدمے، سزا یا اپیل کا انتظار کر رہی ہے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے متنبہ کیا ہے کہ بڑی تعداد میں گرفتاریاں اور طویل قید کی سزاؤں کی وجہ سے ’جیل وں کی تنصیبات پر غیر مستحکم دباؤ‘ پڑے گا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کیا ہے
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں