پاسداران انقلاب دہشتگرد، ایران کو نیو کلیئر پروگرام کے پھیلاو سے روکیں گے ، امریکہ کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 1st, April 2025 GMT
واشنگٹن (نیوزڈیسک) امریکہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے، ایران کو نیو کلیئر پروگرام کا پھیلاؤ روکنا ہو گا۔
ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے حماس کو غزہ کی صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ہم ہیں دنیا کی حفاظت کیلئے کام کریں گے۔
ٹیمی بروس نے مزید کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ تمام فیصلے عوام کی اُمنگوں کے مطابق کر رہی ہے، امریکا آنے والوں کو امریکی قوانین کا احترام کرنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے دور میں جب امریکا معاشی لحاظ سے مضبوط ہو جائے گا تو دنیا بھی ایک بہتر جگہ ہو گی۔
امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس سے سوال کیا گیا کہ ٹرمپ امریکا کو پھر سے عظیم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر مقبوضہ کشمیر اور افغانستان میں بھی لوگ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں جس پر ٹیمی بروس نے کہا کہ لوگ ٹرمپ پر اعتبار کرتے ہیں اسی لیے انہیں دوبارہ منتخب کیا گیا ہے۔
حکمراں طبقے اور سیاستدانوں نےکہاں کہاں عید گزاری ؟ جانیں
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ٹیمی بروس
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔