لوئر دیر ؛ گاڑی کھائی میں گرنے سے 2 افراد جاں بحق، بچوں اور خواتین سمیت 12 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 1st, April 2025 GMT
ویب ڈیسک : خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں گاڑی میں گرنے سے 2 افراد جاں بحق، جبکہ بچوں اور خواتین سمیت 12 افراد زخمی ہوگئے۔
ریسکیو 1122 کےمطابق گاڑی کمبڑ میدان سے تاران گاؤں جا رہی تھی، اسی دوران میدان چینار کوٹ کے مقام پر حادثہ پیش آیا، جہاں ڈبل سیٹر گاڑی کھائی میں جا گری، حادثے کے باعث 2 افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے، جبکہ بچوں اور خواتین سمیت 12 افراد زخمی ہوئے۔
کرشمہ کیور کو لولو اور کرینہ کو بیبو کیوں کہتے ہیں؛ لولو نے خوبصورت وجہ خود بتادی
ریسکیو حکام نے بتایا کہ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد لعل قلعہ ہسپتال منتقل کر دیا، جہاں ڈاکٹرز کی ہدایات پر شدید زخمیوں کو تیمرگرہ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ زخمیوں میں 5 سالہ فہد، 28 سالہ شعیب، 8 سالہ زید، 6 سالہ طارق، 10 سالہ حارث شامل ہیں، ان کے علاوہ ایک 11 سالہ، 10 سالہ، 11 سالہ، 33 سالہ اور 11 سالہ شامل ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد میں 11 سالہ ابوحرین اور زوجہ شیر زمان شامل ہیں۔
میگا ارتھ کوئیک؛ تین لاکھ اموات، معیشت کی بربادی؛ جاپانیوں کو انتظار کیوں ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
تہران: ایران کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فوجی حملوں میں ملک بھر میں کم از کم 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق زیادہ تر جانی نقصان جنوبی اور جنوب مغربی صوبوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 645 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 55 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ خوزستان رہا، جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں اور زخمی رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد صوبہ ہرمزگان اور صوبہ سیستان و بلوچستان میں بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان سامنے آیا۔
ایرانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے 645 افراد میں سے 586 کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔
حکام کے مطابق اس وقت بھی 8 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بعض کی مزید سرجری کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو امریکی جارحیت قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکا کی جانب سے ایران کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ان اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں انسانی اور سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہونے کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے۔