درخواست افغان رفیوجی آرگنائزیشن کے 18 افسران اور ملازمین نے دائر کی جس میں وفاقی حکومت، افغان رفیوجی آرگنائزیشن، کمشنر افغان رفیوجی اور ایڈیشنل اکاؤنٹ جنرل کو فریق بنایا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ افغان کمشنر اور دیگر نان کیڈر ملازمین کی تعیناتی کے اقدام کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ درخواست افغان رفیوجی آرگنائزیشن کے 18 افسران اور ملازمین نے دائر کی جس میں وفاقی حکومت، افغان رفیوجی آرگنائزیشن، کمشنر افغان رفیوجی اور ایڈیشنل اکاؤنٹ جنرل کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار افغان رفیوجی آرگنائزیشن (اے آر او) کے مستقل ملازمین اور مختلف عہدوں پر تعینات ہیں، اے آر او میں ملازمین کے بھرتی اور ترقی کے لیے 2018 میں فریقین کے رولز ہیں۔ رولز کے مطابق گریڈ 19 اور 18 کے افسران کی ترقی آرگنائزیشن کے ملازمین میں سے کی جائے گی جبکہ گریڈ 20 کمشنر کی اسامی کو پی ایم ایس، پی سی ایس اور پی اے ایس کے افسران سے پُر کی جائے گی۔

درخواست کے مطابق وفاقی حکومت اور دیگر فریقین نے ڈیپوٹیشن پر مختلف محکموں سے ملازمین اے او آر میں تعینات کر دیے ہیں۔ کمشنر افغان مہاجرین کو واپڈا سے ڈیپوٹیشن پر لایا گیا ہے لیکن کمشنر کا افغان مہاجرین کے معاملات سے متعلق تجربہ بھی نہیں ہے۔ افغان کمشنر سمیت ڈیپوٹیشن پر لائے گئے تمام ملازمین نان کیڈرز ہیں اس لیے کیڈر ملازمین کی جگہ نان کیڈر ملازمین تعینات کرنا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ نان کیڈر ملازمین کی تعیناتی سے متعلق اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت تعیناتی غیر قانونی قرار دے اور فریقین کو 2018 رولز کا پابند بنائے، فریقین کو کیڈر کی جگہ نان کیڈر ملازمین کی تعیناتی سے روکا جائے۔

عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نان کیڈر ملازمین کی تعیناتی سے متعلق 13 فروری، 10 مارچ اور 27 جنوری کے اعلامیے معطل کرے۔ عدالت درخواست پر ختمی فیصلہ تک فریقین کو درخواست گزاروں کے خلاف سخت ایکشن سے روکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: افغان رفیوجی آرگنائزیشن

پڑھیں:

کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ڈائٹ چارجز بڑھانے کی منظوری محکمہ فنانس میں زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا ٹریننگ الاؤنس 5 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ پولیس فورس کی بنیاد معیاری افرادی قوت اور انسانی وسائل پر ہوتی ہے، عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور خلوصِ دل سے خدمت پولیس کا مقصد ہے، پولیس کی وردی جوانوں کے لیے اعزاز بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام اور حکومت کی نظریں پولیس فورس پر مرکوز ہیں، کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ڈائٹ چارجز بڑھانے کی منظوری محکمہ فنانس میں زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا ٹریننگ الاؤنس 5 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جائے، رزاق آباد، سکرنڈ اور حیدرآباد کے مراکز کو پولیس ٹریننگ اسکول کا درجہ دیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم